ٹیچنگ اسپتالوں کا انتظام جامعات کے حوالے کرنے کیلیے کمیٹی قائم

اسپتالوں کے سربراہوں نے مخالفت شروع کردی، سرکاری اسپتالوں میںدہرے انتظامی نظام سے مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا


Staff Reporter March 07, 2014
اسپتالوں کے سربراہوں نے مخالفت شروع کردی، سرکاری اسپتالوں میںدہرے انتظامی نظام سے مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا۔ فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے سرکاری اسپتالوں میں دہرے انتظامی نظام کی وجہ سے مریضوں کو حصول علاج میں شدید دشواریوں کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت نے تجویزکیا ہے، کراچی کے سول اسپتال سمیت صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں کے انتظامی امورکوسرکاری یونیورسٹیوں کے حوالے کردیے جائیں،محکمہ صحت نے اس سلسلے میں سینئر پروفیسرکی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کردی جس میں صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اورسرکاری اسپتالوں کے سربراہان بھی شامل ہیں،تفصیلات کے مطابق کراچی میں سول اسپتال، لیاری اسپتال، انسٹیٹیوٹ آف اسکن ڈیزیز سمیت دیگر ٹیچنگ اسپتالوں کے انتظامی امورسرکاری یونیورسٹیوں کے ماتحت کرنے کاعندیہ دیا ہے لیکن سرکاری اسپتالوں کے انتظامی سربراہوں نے ممکنہ طور پر یونیورسٹیوں کے ماتحت کیے جانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے سربراہان اپنے انتظامی امورخود چلائیں گے،معلوم ہواہے کہ سرکاری اسپتالوں میں دہرا انتظامی معیار قائم ہے،سول اسپتال کراچی میں پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسرزاور سینئر رجسٹرار سمیت دیگر ٹیچنگ عملہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ماتحت ہوتا ہے جبکہ دیگر آرایم او اور میڈیکل افسران سول اسپتال کے انتظامی سربراہ کوجواب دہ ہوتے ہیں،اسپتال کی انتظامیہ کسی بھی ٹیچنگ کیڈرکے عملے کے خلاف کوئی کارروائی کاحق نہیں رکھتی۔

دوسری جانب یونیورسٹی کی انتظامیہ کسی بھی اسپتال کے عملے کیخلاف کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہوتی ہے ایسی صورتحال میں محکمہ صحت نے تمام ٹیچنگ اسپتالوںکے انتظامی امورمتعلقہ یونیورسٹیوںکے ماتحت کرنے کا عندیہ دیا ہے،اس سلسلے میں محکمہ صحت نے پروفیسریونس سومروکی سربراہی میںکمیٹی قائم کردی ہے جس میں ڈائو،جناح سندھ میڈیکل، لیاری میڈیکل، لیاقت میڈیکل ، بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سمیت دیگر یونیورسٹیوںکے وائس چانسلرزحضرات شامل ہیں،کمیٹی میں اسپتالوںکے سربراہوںکوبھی نامزدکیاگیا جنھوں نے اسپتالوںکے انتظامی امورکویونیورسٹی کے ماتحت کرنے کی شدید مخالفت شروع کردی ہے،معلوم ہوا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے انتظامی اموریونیورسٹی کے ماتحت کرنے کے لیے اسمبلی سے بل کی منظوری بھی کرانا ہوگی جس کے لیے قانون سازی کی جائے گی جس کے بعدتمام سرکاری اسپتالوں کے انتظامی اموریونیورسٹیوںکے ماتحت کردیے جائیں گے تاکہ اسپتالوں میں دہرا انتظامی نظام کا خاتمہ کیاجاسکے،واضح رہے کہ سول اسپتال میں داؤ یونیورسٹی کے پروفیسرجن کا تعلق ٹیچنگ کیڈر سے ہے، گزشتہ6سال سے اسپتال کے سربراہ مقرر ہیںجبکہ قواعدکے مطابق اسپتال کا انتظامی سربراہ جنرل کیڈر گریڈ20کا ہونا چاہیے،سول اسپتال کے ایم ایس پروفیسرگریڈ21کے ہیں جن کی تقرری ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔