ایشیا کپ کے فائنل میں ان فٹ کھلاڑیوں کو زبردستی کھلانا مہنگا پڑ گیا راشد لطیف

ہمیں اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ ایونٹ کے دوران بیٹنگ اچھی رہی، سابق قومی کپتان


Sports Reporter March 09, 2014
ایشیا کپ میں سوائے بھارت ایونٹ میں شریک ہر ٹیم نے بیٹنگ میں بہتر کھیل پیش کیا، راشد لطیف۔ فوٹو: فائل

سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ان فٹ کھلاڑیوں کو زبردستی کھلانا مہنگا پڑ گیا، ٹیم اسی وجہ سے اعزازکے دفاع سے محروم ہوگئی۔

باسط علی کے مطابق آغاز اچھا نہ ہونے کی وجہ سے پچ سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکا، عبد القادر نے کہا کہ مایوس ہونے کے بجائے ورلڈ ٹوئنٹی20 کیلیے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے۔ تفصیلات کے مطابق ''ایکسپریس نیوز'' سے بات چیت کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا کہ میچ کے آغاز میں ہی مالنگاکی کاری ضربوں نے گرین شرٹس کو نڈھال کردیا، پچ کی نوعیت کے مطابق اچھا ہدف نہیں دیا جاسکا، شروع میں وکٹیں گر جائیں تو پھر جتنا بھی ریسکیو آپریشن کرلیا جائے300 رنز نہیں بنتے،40 سے 50 رنز کی کمی پاکستان ٹیم کی ناکامی کا سبب بنی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ ایونٹ کے دوران بیٹنگ اچھی رہی، سوائے بھارت ایونٹ میں شریک ہر ٹیم نے بیٹنگ میں بہتر کھیل پیش کیا ۔

پاکستان نے فائنل میں ان فٹ کھلاڑیوں کو زبردستی کھلایا جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلا، فیلڈنگ نے بھی بہت مایوس کیا، کھلاڑی کیچ ڈراپ کریں تو بولرز کے حوصلے بھی پست ہوجاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ عمر گل نے پاکستان کیلیے شاندار کارنامے انجام دیے مگر اب فٹنس قابل اعتبار نہ ہونے کے باوجود انھیں مسلسل میچز کھلائے گئے، محمد طلحہٰ بھی ردھم میں نظر نہیں آئے۔ راشد لطیف نے مزید کہاکہ مستقبل میں اچھے نتائج کیلیے کھلاڑیوں کی فٹنس اور فیلڈنگ پر توجہ دینی ہوگی۔ باسط علی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آغاز اچھا نہ ہونے کی وجہ سے پچ سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکا، فیلڈنگ بہتر ہوتی تو پاکستان کی فتح کے امکانات ہوسکتے تھے۔ عبد القادر نے کہا کہ گرین شرٹس نے ایونٹ میں مجموعی طور پر اچھی اور مثبت کرکٹ کھیلی، مایوس ہونے کے بجائے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھنا ہوگی تاکہ قومی ٹیم ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں عمدہ پرفارمنس کیلیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو۔