مذاکراتی عمل جلد شروع کیا جائے

طالبان سے مذاکرات کے لیے سرکاری کمیٹی کے غیرموثر ہونے اور مجوزہ نئی کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کے بعد۔۔۔


Editorial March 10, 2014
اگر تمام شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کے کنٹرول میں ہوتے تو جنگ بندی کے اعلان کے بعد دہشتگردی کی تازہ وارداتیں نہ ہوتیں۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل

طالبان سے مذاکرات کے لیے سرکاری کمیٹی کے غیرموثر ہونے اور مجوزہ نئی کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کے بعد مذاکراتی اسٹیج پر بظاہر مکمل خاموشی چھائی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر اخباری اطلاع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے مذاکرات کے لیے حکومت بیک ڈور چینلز کا سہارا لے رہی ہے۔ خبر میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وفاقی حکومت خاموشی کے ساتھ عسکریت پسندوں کے مختلف گروپوں سے انفرادی سطح پر امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ حکومتی امن کمیٹی کا متفقہ مؤقف ہے کہ ایک ہی وقت میں تحریک طالبان پاکستان کے تمام گروپوں کے ساتھ امن معاہدہ ناممکن ہے۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ جب حکومتی کمیٹی نے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تو توقع کے برعکس اس دوران بھی سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ نہ رکا، اسی عرصہ میں اسلام آباد کچہری کا ناخوشگوار واقعہ سامنے آ گیا۔ تحریک طالبان نے تمام حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا مگر شدت پسندوں کے چند ایسے گروہ منظرعام پر آئے جنہوں نے ان حملوں کی نہ صرف ذمے داری قبول کی بلکہ مزید حملے کرنے کی بھی دھمکی دی۔

ان حالات میں حکومتی حلقوں کی سوچ میں تبدیلی آئی کہ تحریک طالبان پاکستان کی عسکریت پسندوں کے تمام گروپوں پر گرفت مضبوط نہیں، اگر تمام شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کے کنٹرول میں ہوتے تو جنگ بندی کے اعلان کے بعد دہشتگردی کی تازہ وارداتیں نہ ہوتیں، ان وارداتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا مختلف گروپوں پر کنٹرول کمزور پڑ رہا ہے لہٰذا حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس صورتحال کے تناظر میں طالبان کے تمام گروپوں کے ساتھ امن معاہدہ نہیں ہو سکتا اور مفاہمت بعض گروپوں کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ مجوزہ نئی مذاکراتی کمیٹی میں خیبرپختونخوا حکومت کو شامل ہونے کی بھی دعوت دی گئی تاکہ بات چیت کے عمل میں دوسرے گروپوں کو بھی شامل کیا جائے۔ اتوار کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ٹیلی فونک رابطے میں طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لیے مجوزہ نئی حکومتی کمیٹی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو شامل کرنے کی تجویز دی جس پر عمران خان نے پارٹی سے مشاورت کے لیے مہلت مانگ لی۔ پیر کو تحریک انصاف نے پرویز خٹک کے بجائے گلزار خاں کا نام نامزد کر دیا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کے وزیر صحت نے طالبان کو پشاور میں دفتر کھولنے کی دوبارہ پیشکش کر دی ہے۔ ایک جانب وہ سیاستدان اور مذہبی جماعتیں ہیں جو طالبان سے مذاکرات کی حامی ہیں اور حکومت پر اس حوالے سے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کا ایک گروپ طالبان سے مذاکرات کا حامی نہیں اور اپنے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لاہور میں صوفیائے کرام کانفرنس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا اور حکومت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پر قابو نہ پایا تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اس لیے مذاکرات میں محتاط رہا جائے۔ سندھ حکومت اور اے این پی بھی طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بارہا تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے مارچ میں آپریشن کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں آپریشن ہو گا۔ اس گھمبیر صورتحال میں حکومت دباؤ یا الجھاؤ کا شکار نظر آتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ معاملات کو کس طرح حل کیا جائے۔ پہلے حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ علی الاعلان شروع کیا اور تمام معاملات سے میڈیا اور عوام کو باخبر رکھا لیکن جب معاملات میں مناسب پیشرفت نہ ہوئی اور مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھا تو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو غیرموثرکرتے ہوئے اس میں نئے نام شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ طالبان سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ صائب ہے کیونکہ دونوں فریقین کے براہ راست بات چیت کے عمل سے تمام پہلو کھل کر سامنے آئیں گے اور معاملات جلد طے پا جائیں گے اور صورتحال واضح ہو جائے گی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے طالبان کے مختلف گروپوں کے ساتھ انفرادی سطح پر مذاکرات کے فیصلے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آ جائے گی کہ کون گروپ مذاکرات کے حامی ہیں اور کون مخالف اور مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں مگر اس معاملے کو جلد نمٹانا چاہیے کیونکہ مذاکراتی عمل میں جتنی تاخیر ہوتی جائے گی حکومت کے لیے اتنی ہی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ور اس تاخیری عمل سے مخالف گروپ فائدہ اٹھا کر اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے بھی یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے شدت پسند گروہ صرف وقت گزار رہے ہیں اور امن معاہدہ میں سنجیدہ نہیں۔ اگر یہ خدشات درست ہیں تو یہ خطرناک بات ہے کیونکہ تاخیری حربوں سے امن قائم نہیں ہو سکتا اور ملک میں بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔ حکومت نئی مجوزہ مذاکراتی کمیٹی کو جلد مکمل کرے اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔