مذاکرات اور بم دھماکے پس پردہ کون

خوش آیندامر ہےکہ حکومت اورطالبان کےدرمیان ہونےوالےمذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے باوجود منفی نتیجے کا شکار نہیں ہوئے


Editorial March 14, 2014
دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مسلح گروہ موجود ہیں جو بم دھماکے کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوٹو:آئی این پی

NEW YORK: طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ میں ایک مدت بعد دوبارہ رابطہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز طالبان کمیٹی کے دو ارکان پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچے' جے یو آئی (س) شمالی وزیرستان کے امیر مولانا عبدالحئی بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ خبر کے مطابق طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان ملاقات میں سیز فائر میں توسیع اور نئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقام کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے باوجود منفی نتیجے کا شکار نہیں ہوئے بلکہ انھیں بحال کرنے پر بات چیت کے عمل کا آغاز ہو گیا۔ حکومت اور طالبان کے درمیان منقطع تعلقات بحال کرنے کے لیے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی بھرپور طور پر سرگرم ہے۔ اطلاع کے مطابق طالبان کمیٹی مذاکرات کے بعد واپس آگئی ہے ۔ بات چیت کا عمل تب ہی آگے بڑھے گا جب نئی حکومتی کمیٹی کے براہ راست طالبان سے باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ امید ہے کہ دونوں گروہوں میں ہونے والی بات چیت مثبت نتائج کی حامل ہو گی۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا مطالبہ نہ کریں جسے پورا کرنا حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بنے اور بات چیت کا عمل ایک بار پھر ڈیڈ لاک کا شکار ہو جائے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی کی سربراہی میں ملنے والے دس رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی موقف واضح کر دیا کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے جس پر حکومتی کمیٹی بحث کرے گی تاہم کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبہ نہیں مانا جائے گا۔ طالبان کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ ان کے مذاکرات ایک جمہوری حکومت سے ہو رہے ہیں جو آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور کوئی بھی فیصلہ آئین اور قانون سے ماورا نہیں کر سکتی۔

اس لیے طالبان کو ایسا کوئی مطالبہ نہیں کرنا چاہیے جو آئین اور قانون سے بالاتر ہو کیونکہ وزیراعظم نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں پیغام دے دیا ہے کہ کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبہ نہیں مانا جائے گا۔ حکومت کے اقدامات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ اور پرخلوص ہے یہی وجہ ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر اپنی سیاسی مخالف ان قوتوں کو بھی جو مذاکرات کی حامی ہیں' اعتماد میں لی رہی ہے۔ وزیراعظم نے عمران خان سے ملاقات کر کے طالبان کو یہ پیغام دے دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور دوسری جانب یہ ان قوتوں کے لیے بھی پیغام تھا جو مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکا کر انھیں سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ اب حکومت نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو طالبان سے بات چیت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے شمالی وزیرستان بھیجا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم نے مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مزید مثبت قدم اٹھاتے ہوئے ملاقات کے لیے آنے والے علما کی اپیل پر طالبان کے تمام غیر جنگی قیدی جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کو رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جہاں حکومت اپنے اقدامات کی بدولت طالبان کو مثبت پیغامات دے رہی ہے وہاں بم دھماکوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔

جمعہ کو پشاور کے نواحی علاقے سربند کے بازار میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر خود کش دھماکے میں سات افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اسی روز کوئٹہ میں بھی دھماکے سے دس افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ان دھماکوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مسلح گروہ موجود ہیں جو بم دھماکے کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ گروہ نامعلوم ہیں اور ان کی شناخت نہیں ہو رہی اور نہ ان کے مقام کا پتہ چل رہا ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کے تمام گروپ امیر کی اطاعت کے پابند ہیں' ہم قوم کو مایوس نہیں کریں گے' جنگ بندی میں توسیع شوریٰ اجلاس کے بعد کی جائے گی۔ طالبان حملہ کرنے والے مسلح گروہوں کی کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں مگر صرف لاتعلقی کے اظہار سے معاملات درست نہیں ہو سکتے۔ طالبان کو ان گروہوں کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان کی کارروائیوں کا سدباب کیا جا سکے۔ چند روز قبل وزیراعظم اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی یہ طے پایا تھا کہ جو گروہ مذاکرات کے دشمن ہیں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب ملکی معیشت میں جو خوش کن امر رونما ہوا ہے وہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا ملنا ہے، اس رقم کے ملنے سے پاکستانی روپے کی قدر کو سہارا ملا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ روپے کی قدر بڑھنے کے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات ضرور مرتب ہوں گے مگر معاشی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ڈالر کا اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے، حقیقی ترقی کا عمل اس وقت شروع ہو گا جب حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے علاوہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں کامیاب ہو گی۔ اس وقت ایک جانب جہاں توانائی بحران جاری ہے وہاں بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی تجارتی سرگرمیوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے سستی اور وافر بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کرے تو ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت نہ صرف امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائے بلکہ ملکی ترقی کے منصوبوں کو بھی زیادہ سے زیادہ فروغ دے گی۔