ایران نے خلیجی سلطنتوں سے تعلقات بہتر بنانے شروع کر دیے

ایرانی صدر حسن روحانی نے خلیجی بادشاہتوں سے رنجشیں دور کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے


Editorial March 14, 2014
یوں دیکھا جائے تو ایرانی حکومت عرب ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوٹو:فائل

KARACHI: ایرانی صدر حسن روحانی نے خلیجی بادشاہتوں سے رنجشیں دور کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام اور ایران کی طرف سے شامی حکومت کی حمایت پر ایران سے کبیدہ خاطر ہیں۔ ایرانی صدر نے اومان کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے موقع پر کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک سے افہام و تفہیم کا خواہاں ہے۔ کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات کسی دوسرے ملک کی قیمت پر استوار نہیں کیے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خطے کے تمام ممالک امن و سلامتی کے ساتھ رہیں اور ان میں دوستی اور بھائی چارے کا رشتہ برقرار رہے۔ اومان کے دارالحکومت مسقط میں ایک کاروباری اجتماع سے خطاب میں صدر روحانی نے کہا کہ سلطنت اومان کے ایران کے ساتھ بہت گہرے تعلقات ہیں جس نے مغربی دنیا کی ایران کے خلاف غلط فہمیاں دور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ صدر روحانی نے خطاب سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کے رشتے گہرے ہو رہے ہیں۔

عرب اور خلیجی ریاستوں کے ایران کے ساتھ فی الحال مثالی تعلقات نہیں ہیں۔ خلیج کی عرب ریاستوں کو ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی ری ایکڑ میں کوئی حادثہ پیش آ گیا تو اس کے پڑوسی ریاستوں پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت پر کور بستہ ہیں۔ اگرچہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہونے کی بارہا یقین دہانی کرائی ہے مگر پھر بھی مغربی ممالک امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کی وجہ سے ایران کو ''کلین چٹ'' دینے پر تیار نہیں ہیں۔ ایران کے ساتھ خلیجی ریاستوں کے تعلقات کی خرابی میں ایران کی طرف سے شام کی بشار الاسد حکومت کی کھلم کھلا حمایت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایرانی صدر روحانی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونے سے تمام ممالک کو فائدہ ہو گا۔ ایران تمام خلیجی ملکوں سے تجارتی تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران تمام ممالک کی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے۔ ایران اور اومان کی باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے متجاوز ہے جس میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ایرانی حکومت عرب ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے' اس کے مثبت اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر پڑیں گے۔