ورلڈ ٹی 20 سری لنکا فیورٹ مگر پاکستان بھی کم نہیں اقبال قاسم

آفریدی فارم میں ہے لیکن ٹیم کسی ایک پلیئر کے گرد نہیں گھومتی، سابق چیف سلیکٹر


Sports Reporter March 15, 2014
آفریدی فارم میں ہے لیکن ٹیم کسی ایک پلیئر کے گرد نہیں گھومتی، سابق چیف سلیکٹر۔ فوٹو: فائل

MULTAN: سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم نے کہا ہے کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکن ٹیم فیورٹ لیکن پاکستان بھی کسی سے کم نہیں ہے، ایشیا کپ میں شاندار کار کردگی کے بعد ہمارے کھلاڑی جذبے سے سرشار اور بھرپور فارم میں ہیں، ضروری ہے کہ جوش کے بجائے ہوش کا مظاہرہ کیا جائے۔

انھوں نے ان خیالات کااظہار گذشتہ شام کراچی جیمخانہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اپنے دور کے معروف اسپنر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایشیا کپ میں پاکستان نے قابل تحسین کارکردگی دکھائی لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا مزاج قدرے مختلف ہے، اس فارمیٹ کی کرکٹ میں حکمت عملی بھی اس لحاظ سے اپنائی جاتی ہے، سعید اجمل کے ورلڈ کلاس بولر ہونے میں کوئی2 رائے ہو ہی نہیں سکتی، مگر ہمارے کسی دوسرے بولر کوانٹرنیشنل سطح پر وہ مقام حاصل نہیں، حوصلہ افزا نتائج کے لیے پاکستانی بولنگ اٹیک کو بھی اپنا کردار اور ذمہ داری نبھانا ہوگی، اگر ہمارے بولرز نے بھر پور محنت نہ کی تو نتائج کچھ اور ہی ہوں گے، بیٹنگ لائن اپ کے حوالے سے سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی بیٹنگ مشکلات کا شکار رہتی ہے،ٹیم کی کارکردگی کا انحصار ہمارے بیٹسمینوں خاص طور پر ابتدائی کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر ہوگا، اچھا آغاز مستحکم اسکور کی ضمانت ہے۔

شاہد آفریدی کی پر فارمنس کے حوالے سے سوال پر اقبال قاسم نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کی کارکردگی محض ایک کھلاڑی کے گرد نہیں گھومتی، ٹیم کا مطلب مجموعی پرفارمنس ہے، بے شک آفریدی عمدہ فارم میں ہیں لیکن اب کرکٹ میں کھلاڑی کو ہر شعبے میں کارکردگی دکھانی ہوتی ہے، فیلڈنگ کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم قدرتی انداز میں فیلڈنگ کرتی ہے، کسی بھی کوچ کی موجودگی میں اس کی کارکردگی میں5 سے10 فیصد سے زیادہ بہتری نہیںآسکتی، قومی ٹیم میں کوچزکی بھرمار سے متعلق انھوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کے نیچرل اسٹائل کو تبدیل کرنا حماقت ہوگی تاہم نئے پلیئرز پر اس ضمن میں توجہ دی جاسکتی ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پاک بھارت میچ کے حوالے سے اقبال قاسم نے موقف اختیار کیا کہ بھارت سے ڈرنے یا اس کو دبائو میں لانے کی حکمت عملی اپنانے سے اجتناب برتا جائے، دفاعی کھیل اپنانا بھی درست نہ ہوگا،میچ میں پروفیشنل اندازمیں یکسوئی سے مقابلہ کیا جائے تو مطلوبہ نتیجہ مل سکتا ہے۔