پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش میں ڈیرے ڈال دیئے آج مشقیں شروع

گرین شرٹس 17مارچ کونیوزی لینڈ جبکہ 19 تاریخ کو جنوبی افریقہ کیخلاف وارم اپ میچ کھیلیں گے۔


Sports Reporter/Sports Desk March 15, 2014
گرین شرٹس 17مارچ کونیوزی لینڈ جبکہ 19 تاریخ کو جنوبی افریقہ کیخلاف وارم اپ میچ کھیلیں گے۔ فوٹو: فائل

MUZAFFARGARH: ورلڈ کپ گھر لانے کا عزم لیے پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش میں ڈیرے ڈال دیے، مشقوں کا آغاز ہفتے سے ہو گا، اسی روزکپتان محمد حفیظ اور چند پلیئرز کی میڈیا سے بات چیت ہو گی،اسکواڈکا پہلا ٹریننگ سیشن فتح اللہ کے میدان پر شیڈول ہے۔

دوسری جانب کارکردگی میں عدم تسلسل کا خوف کوچ معین خان کو ستانے لگا،ان کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ فائنل میں تھکاوٹ کے آثار نظر آنے کا کوئی جواز نہیں، میگا ایونٹ کے کسی میچ میں بھی غفلت کی گنجائش نہیں ہوتی، ہر مقابلے کو اہم سمجھتے ہوئے پوری توجہ کھیل پر مرکوز رکھنے سے ہی انرجی لیول اور کارکردگی کا معیار بہتر کیا جاسکتا ہے۔ بھارت کیخلاف فتح سے حاصل ہونے والا جذبہ ٹوئنٹی20میں بھی قائم رکھتے ہوئے قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کیلیے محمد حفیظ کی قیادت میں 14کھلاڑی اور 8 آفیشلز لاہور سے براستہ دبئی ڈھاکا پہنچے، غیر ملکی فزیو تھراپسٹ اور ٹرینر ڈیل نائلر بنگلہ دیش میں ہی ٹیم کو جوائن کریں گے، ایشیا کپ کے دوران گروئن انجری کا شکار ہونے والے شاہد آفریدی کو ڈاکٹر کے مشورے پرآرام دیا گیا ہے، آل راؤنڈر چند روز کی تاخیر سے ڈھاکا پہنچیں گے۔ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے9 بجے کپتان محمد حفیظ فتح اللہ میں شیڈول پریس کانفرنس میں اپنی تیاریوں کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب دینگے، بعد ازاں اوپن میڈیا سیشن میں احمد شہزاد، عمر اکمل اور سہیل تنویر توجہ کا مرکز ہونگے۔ میگا ایونٹ کی تیاری کیلیے پاکستان کی مشقوں کا آغاز سہ پہر2 بجے شروع ہونے والے ٹریننگ سیشن سے ہوگا، ٹیم کا پہلا ٹریننگ سیشن فتح اللہ کے میدان پر ہوگا۔

گرین شرٹس 17مارچ کونیوزی لینڈ جبکہ 19 تاریخ کو جنوبی افریقہ کیخلاف وارم اپ میچ کھیلیں گے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں مہم کاآغاز 21 مارچ کو روایتی حریف بھارت کیخلاف میچ سے ہو گا۔ ٹیم کی روانگی سے قبل لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہیڈ کوچ معین خان نے کہا کہ ایشیا کپ میں کارکردگی اچھی رہی، ٹیم کا مورال بلند اور کھلاڑی فارم میں ہیں، امید ہے کہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں بھی اچھے نتائج دینگے۔ انھوں نے کہا کہ فٹنس کے کچھ مسائل تھے لیکن اب تمام کھلاڑی مکمل فٹ اور کارکردگی دکھانے کیلیے بے تاب ہیں، شاہد آفریدی کی فٹنس پر تھوڑی تشویش ہے، امید ہے کہ وہ بھی جلد ہی ٹھیک ہوکر ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔ایشیاکپ کے فائنل میں کھلاڑیوں پر تھکن کے آثار نمایاںنظر آنے کے سوال پر انھوں نے تسلیم کیا کہ فیصلہ کن معرکے میں باڈی لینگوئیج پہلے والے میچز جیسی نہیں تھی، پلیئرز نے اس سے قبل بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف دباؤ سے بھرپور مقابلوں میں سخت محنت سے کا میابی حاصل کی لیکن میرے خیال میں یہ کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے، ان مسائل پر قابوپانے کی ضرورت ہے۔

فٹنس کے معاملات پر ڈاکٹرز، فزیو اورکھلاڑیوں کا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے،کرکٹرز کی اپنی بھی ذمہ داری ہے کہ فٹنس کا مطلوبہ معیار اور میدان میں کارکردگی برقرار رکھنے کیلیے کوشش کریں، میگا ایونٹ کے کسی میچ میں بھی غفلت کی گنجائش نہیں ہوتی، ہر مقابلے کو اہم سمجھتے ہوئے پوری توجہ کھیل پر مرکوز رکھنے سے ہی انرجی لیول بہتر اور کارکردگی میں تسلسل لایا جاسکتا ہے، امید ہے کہ ٹیم تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے کپ جیت کر وطن واپس لوٹے گی۔ناقص فیلڈنگ کے سوال پر انھوں نے کہاکہ اس ضمن میں کام کررہے ہیں تاہم مسائل راتوں رات حل نہیں ہوسکتے،کھلاڑیوں کو ہمیشہ ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے، امید ہے کہ اس بار ہم ان چیلنجز کا سامنا کرسکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ میچ سب سے اہم ہوگا، دباؤ سے بھرپور مقابلوں سے پُرجوش کرکٹرز بھی لطف اندوز ہوتے ہیں،ایشیا کپ میں روایتی حریف سے میچ میں ہر کھلاڑی جیت کے جذبہ سے سرشار ہوکر محنت کرتا رہا جس کی بدولت گرین شرٹس سرخرو بھی ہوئے، اس بار بھی ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔