تھر ازخود نوٹس ذمے دار افسروں کو ہٹادیا ہائیکورٹ میں رپورٹ

غفلت کی تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیدی گئی،چیف سیکریٹری سندھ


Staff Reporter March 15, 2014
غفلت کی تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیدی گئی،چیف سیکریٹری سندھ۔ فوٹو: فائل

SUKKUR: سندھ ہائیکورٹ کوبتایا گیا ہے کہ ریلیف کمشنراورسینئرممبر بورڈ آف ریونیو،کمشنرمیر پور خاص،ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور ایس ایس پی تھرپارکرغفلت کے مرتکب پائے گئے تاہم ان کوپہلے ان کے عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے، یہ رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ نے سندھ ہائیکورٹ میں دی۔

چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے تھرپارکرمیں قحط سالی اورہلاکتوں سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی ، صوبائی حکام نے عدالت کوبتایاکہ محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی فراہمی میں کوئی تاخیرنہیں ہوئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے87ہزار 5سو گندم کی بوریاں تقسیم کرنے کاحکم دے دیاہے جن میں سے60ہزار گندم کی بوریاں تقسیم ہوچکی ہیں، جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاکو2لاکھ روپے معاوضہ دیاجارہاہے،غفلت کی تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔چیف سیکریٹری سجادسلیم ہوتیانہ اور دیگر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس پیش کی گئیں، چیف سیکریٹری نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ تھرپارکر میں گندم کی ترسیل میں غفلت کا جائزہ لینے کیلیے ڈی آئی جی حیدرآباد کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی اورکوتاہی ثابت ہونے پرمتعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

چیف سیکریٹری نے بتایاکہ ڈسٹرکٹ اسپتال مٹھی میں صحت کی سہولتوں میں اضافے کیلیے3کروڑروپے جاری کیے جاچکے ہیں،شدیدبیماربچوںکوکراچی اور حیدرآباد کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیاہے ۔رپورٹ میں مزید بتایاگیا کہ یومیہ8سوجانوروںکی ویکسینیشن کی جارہی ہے۔نیشنل دیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ تھرپارکر میں فوج،سرکاری اورغیرسرکاری ادارے متاثرین کی بحالی کیلیے کام کررہے ہیں۔ چیف جسٹس مقبول بارنیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اورصوبائی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تھرپارکر میں قحط سالی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کیلیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی،سندھ ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکریٹری عاصم اقبال نے اپنی درخواست میں چیف جسٹس کو بتایا کہ گزشتہ3ماہ میں ضلع تھرپارکرمیں خوراک کی قلت سے خواتین اوربچوں سمیت ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں مگر ان کی بحالی کیلیے اقدامات نہیں کیے جارہے،مذکورہ علاقے کیلیے گندم کی منظوری دی گئی تھی مگرمنظورہ کردہ تعداد کے مطابق گندم نہیں پہنچائی گئی جس سے غذائی قلت پیداہوئی۔