راولپنڈی میں والد کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کے دوران 6 سالہ بچی پراسرار طور پر لاپتا

پتا نہیں بچی کو کسی نے اغوا کیا یا نالے میں گریں، ریسکیو نےآپریشن بند کردیا ہے ہمیں بچی چاہیے، بچی کے والد کا مطالبہ


ویب ڈیسک August 06, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

راولپنڈی کے علاقے کمیٹی چوک میں لنڈا بازار کے  قریب والد کے ساتھ  گاڑی میں بیٹھنے کے دروان 6 سالہ بچی پراسرار طور پر لاپتا ہوگئی جبکہ جائے وقوع سے لے کر ڈرینج نالہ لائی میں گرنے اور موتی محل پل تک نالہ لئی میں چار کلو میڑ تک تلاش مکمل کرلی گی مگر بچی کا سراغ نہ مل سکا اور پولیس نے اغوا کے جرم میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

حکام کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والا عمیر نامی شہری اپنے بچوں اور اہل خانہ  کے ساتھ سسرال آئے ہوئے تھے اور قیام کے بعد جمعرات کو صبح واپس جانے کے لیے تیار ہوئے، بچوں کے والد بچوں کو گاڑی میں بٹھا رہے تھے کہ رات ہونے والی بارش کے باعث لنڈا بازار میں بہنے والے نالوں میں پانی کی سطح بھی بلند تھی کہ اچانک عمیر احمد کو احساس ہوا ان کی 6 سالہ بچی حریم عمیر غائب ہے۔

انہوں نے فوری تلاش شروع کردی اور ریسکیو 1122 اور پولیس کو بھی اطلاع کردی، اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچی کی تلاش شروع کردی گئی، جس جگہ بچی ممکنہ طور پر گری وہاں نالہ کچھ جگہ پر اوپن اور کسی جگہ کور ہے جبکہ ریسکیو کی دو واٹر ٹیموں کے ہمراہ 12 ریسکیوئرز اور پانچ گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجںسی افسر ریسکیو 1122 انجینیر صبغت اللّٰہ نے بتایا کہ 6 سالہ بچی حریم عمیر کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122 کا سرچ آپریشن صبح سے مسلسل جاری ہے، سرچ آپریشن کو چار سیکٹرز میں تقسیم کر کے مختلف مقامات پر بیک وقت سرچنگ  کی جاتی رہی، سیکٹر-1 جائے وقوع سے بوہڑ بازار چوک تک سرچ مکمل کرلی گی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکٹر-2 بوہڑ بازار چوک سے کرنل مقبول چوک تک سرچنگ کی گئی، اسی طرح سیکٹر-3 کرنل مقبول امام بارگاہ چوک سے لیاقت روڈ تک واٹر ریسکیو ٹیمیں سرچ میں مصروف رہیں اور سیکٹر-: لیاقت روڈ سے گوالمنڈی تک سرچ آپریشن جاری رہا۔

بعدازاں سرچ آپریشن نالہ لئی کے مختلف حصوں تک توسیع دی گی اور  ڈرینیج کے نالہ لئی میں گرنے والی جگہ سے موتی محل پل تک سرچ مکمل کر لی گئی۔

انجینیر صبغت اللّٰہ کا کہنا تھا کہ اب تک 4 کلومیٹر سے زائد کے علاقے میں لائن سرچ کی جا چکی ہے، بچی کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، واسا کا عملہ بھی ریسکیو 1122 کی معاونت کے لیے موجود رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 اور دیگر امداد ٹیموں نے بچی کی تلاش کے سرچ آپریشن جمعرات کی شب سورج غروب ہونے اور اندھیرا پھیل جانے تک جاری رکھا تاہم بچی کا سراغ نہ ملا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر صبغت اللّٰہ کا کہنا تھا کہ غروب آفتاب کے باعث اندھیرا پھیل جانے پر پہلے روز کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیمیں جمعے کو علی الصبح تمام دستیاب وسائل کے ساتھ دوبارہ سرچ آپریشن کا آغاز کریں گی۔

دوسری جانب تھانہ وارث خان پولیس نے بچی کے والد عمیر علی کی مدعیت میں بچی کے مبینہ اغوا کے جرم میں مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔

عمیر علی نے مؤقف اختیار کیا کہ کزن نومی کے گھر لنڈا بازار دعوت پر آیا کھانے کے بعد رات گیے واپس جانے لگے تو بارش تیز تھی، گلی اور سڑک پر ایک فٹ تک پانی تھا، بچوں کو گاڑی میں بٹھا رہا تھا کہ 5 سالہ بیٹی مریم پانی میں بہہ کر نالے میں گر گئی۔

انہوں نے کہا کہ بچی کو تلاش کیا جائے، پولیس نے بچی کے اغوا کے جرم میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

دوسری جانب ریسکیو نے سورج غروب ہونے اور اندھیرا پھیل جانے پر ریسکیو آپریشن جمعے کی صبح تک کے لیے ملتوی کیا تو لواحقین اور اہلیان علاقہ نے احتجاج شروع کردیا، مظاہرہ نے بوہڑ بازار چوک میں سڑک پر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔

بچی کے والد عمیر علی کا کہنا تھا کہ کوئی پتا نہیں بچی کو کسی نے  اغوا کیا یا نالے میں گری ہیں، ریسکیو 1122 نے سرچ آپریشن بھی بند کر دیا ہے لیکن ہمیں بچی چاہیے۔