طالبان سے مذاکرات…مثبت اشارے

حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور پہلی بار طالبان مذاکراتی کمیٹی نے ۔۔۔


Editorial March 17, 2014
اب حکومت کے لیے گومگو کی کیفیت ختم اور پوزیشن واضح ہو گئی ہے کہ اسے اب کیا راستہ اختیار کرنا ہے۔ فوٹو؛فائل

حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور پہلی بار طالبان مذاکراتی کمیٹی نے اس امر کا واضح اعلان کیا ہے کہ حکومت اگر احرار الہند نامی تنظیم کے مرکز کو نشانہ بنائے تو طالبان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان' احرار الہند کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں کہ ان کا تعلق کس جگہ سے ہے' طالبان کو پشاور اور کوئٹہ واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی پر اعتراض نہیں۔

طالبان کی طرف سے اس نوع کا پیغام ملنا خوش آیند ہے اب وہ گروہ جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے اور بدامنی کو جنم دے رہے ہیں' حکومت کو ان کے خلاف کارروائی میں آسانی ہو گی۔ اس تناظر میں اب شدت پسندوں کے دو گروہ منظر عام پر آئے ہیں ایک وہ جو معاملات کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ گروہ جو مذاکرات کے قطعی حامی نہیں اور سیکیورٹی اداروں پر اپنے حملے جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ طالبان کی طرف سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو پورے ملک میں ماہرین اس کا الزام طالبان ہی پر عائد کرنے لگے مگر طالبان نے ان حملوں سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانے کا پیغام دیا۔ اسی دوران احرار الہند اور دیگر گروہ منظر عام پر نمودار ہوئے جنہوں نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی اور مستقبل میں بھی ان حملوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے طالبان پر بھی دباؤ بڑھا اور انھیں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ان گروہوں سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرنا پڑا۔ اب انھوں نے اس بات کا کھل کر اظہار کر دیا ہے کہ وہ گروہ جو حملے کر رہے اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں انھیں ان گروہوں کے خلاف حکومتی کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اب حکومت کے لیے گومگو کی کیفیت ختم اور پوزیشن واضح ہو گئی ہے کہ اسے اب کیا راستہ اختیار کرنا ہے۔ وہ گروہ جو مذاکرات کے حامی ہیں ان سے مذاکرات کر کے معاملات کو حل کیا جائے اور جو گروہ حملے کر رہے اور صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ لاہور میں اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے سینئر صحافیوں' کالم نگاروں' ایڈیٹروں' دانشوروں اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں کہا کہ امن مذاکرات کرنے والوں نے بھی دہشت گردوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے جو گروہ مذاکرات نہیں مانتے یا پرامن رویوں کو اختیار نہیں کرتے ان سے نمٹنے کے لیے اب آسانی پیدا ہو گئی ہے، طالبان سے مذاکرات مکمل ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اب حکومت کو امن کے قیام کے لیے تاخیر نہیں کرنا چاہیے اور وہ گروہ جو پرامن رویوں کے دشمن ہیں ان کے خلاف فی الفور بھرپور آپریشن شروع کر دینا چاہیے۔ کامیاب آپریشن سے ہر گروہ کو یہ پیغام بھی جائے گاکہ اگر اس نے امن کے راستے سے روگردانی کی تو اس کے خلاف بھی ایسی نوبت آ سکتی ہے۔ اس سے حکومت کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو گی اور وہ امن کے حامی گروہوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بآسانی پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے بتایا کہ طالبان نے جنگ بندی پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے' مذاکرات محسود قبائل کے علاقے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تاہم تین مقامات میرانشاہ' بنوں ایئر پورٹ اور ایف آر بنوں کے مقامات زیر غور ہیں' جگہ کے تعین کے بعد حکومتی کمیٹی کو وزیرستان لے جائیں گے۔

حکومت اور طالبان کے درمیان جگہ کا تعین ہونے کے بعد براہ راست مذاکرات ہوں گے۔ اب تک کے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور طالبان ہر دو فریق مذاکرات میں سنجیدہ اور مسئلے کے پرامن حل کے خواہاں ہیں جس کا واضح اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ حکومت نے طالبان کے خلاف فضائی کارروائی فوری روک دی اور طالبان نے بھی سیکیورٹی اداروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف آپریشن کی حامی بھر لی ہے۔ طالبان نے بچوں اور خواتین قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان افراد کی رہائی کو مطالبات یا شرائط میں شامل نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ خیر سگالی کے طور پر اقدامات ہو سکتے ہیں' اس لیے ان سے مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اگر ان تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں کوئی بچہ یا خاتون نہیں ہے' طالبان کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کریں۔ یہ خوش کن امر ہے کہ طالبان نے براہ راست مذاکرات کے لیے کوئی کڑی شرائط پیش نہیں کیں اگر وہ ایسے کرتا تو مذاکراتی عمل شروع کرنے میں دشواریاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

حکومت اور طالبان کو براہ راست مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع کر دینا چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف دونوں فریقین میں موجود اعتماد کا فقدان ختم ہو جائے گا بلکہ وہ گروہ بھی ناکام ہو جائیں گے جو مذاکرات سبوتاژ کرنے کے لیے خفیہ طور پر سرگرم ہیں۔ اخبارات میں ایسی خبریں بھی شایع ہوئی ہیں کہ یورپی اور مغربی ممالک کو پاکستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر شدید تحفظات ہیں تاہم اس حوالے سے انھوں نے حکومت پاکستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ نہیں کیا اور مذاکرات کے بارے میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کو باریکی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ خبر کے مطابق مغربی ممالک کے سفارت کار چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو مذاکرات کے بجائے آپریشن کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی' قیام امن کے لیے وفاق کے ساتھ صوبائی حکومتوں کی ذمے داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ مذاکرات کی حامی تمام قوتوں کو بھی اب پہلے سے زیادہ متحرک ہونا ہو گا تاکہ بات چیت کے ذریعے ہی قیام امن کی راہ ہموار ہو سکے۔