شام پر اسرائیلی فضائی حملہ

خطے میں انتہا پسندی کو فروغ بھی امریکا نے دیا اور اب اسرائیل یہ الزام بشار حکومت پر عائد کر رہا ہے۔


Editorial March 20, 2014
یوں دیکھا جائے تو شام کے بحران کے حوالے سے امریکا‘ یورپ اور اسرائیل کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات شامی فوج کی متعدد تنصیبات پر بمباری کی اور فضائی حملوں میں شامی فوج کے ہیڈ کوارٹرز' فوجی تربیتی مرکز اور توپ خانے کی بیٹریز اور کئی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا' مقامی وقت کے مطابق رات گئے تین بجے بمباری کی گئی۔ اسرائیل کے اس حملے کو اگر عراق پر امریکی حملے کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں یاد ہو گا کہ وہاں بھی اسرائیل نے فضائی حملے میں پہل کر کے امریکی حملے کی راہ ہموار کی تھی اور اب شام پر حملہ بھی غالباً امریکا کو شام پر حملے کے لیے اُکسانے کی خاطر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہ حملے جولان کی پہاڑیوں کے قریب منگل کو سڑک پر نصب بم پھٹنے میں چار اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے پر جوابی کارروائی کے طور پر کیے گئے۔ شامی حکام نے کہا ہے کہ اس حملے میں ایک فوجی جاں بحق اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع موشے یالون نے شامی صدر بشار الاسد کو انتباہ کیا ہے کہ اسے جہادی گروپوں کو یہودی ریاست پر حملوں میں مدد دینے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ادھر امریکا نے واشنگٹن میں واقع شامی سفارتخانے اور مشی گن اور ٹیکساس کے قونصل خانے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ جب کہ روس نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے اس اقدام سے ویانا کنونشن کی ''کُھلی خلاف روزی'' ہوئی ہے۔ یاد رہے کچھ عرصہ قبل امریکا نے بشار حکومت پر اپنے شہریوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگا کر شام پر چڑھائی کی کوشش کی جسے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بر وقت مداخلت کر کے روک دیا۔ اب امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ شامی سفارت خانہ اور قونصل خانے بند کرنے کا فیصلہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی لا قانونیت انتہا تک پہنچنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ جان کیری نے کہا کہ شامی حکومت گزشتہ تین سال میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو قتل کر چکی ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شامی حکومت کی امریکا میں نمایندگی ہماری بے عزتی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ نیویارک میں واقع شام کا اقوام متحدہ کا مشن جاری رہے گا تاہم امریکا نے شام کے اقوام متحدہ میں سفارت کار بشار جعفری کی سفری حرکات کو 25 میل کے دائرے تک محدود کر دیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو شام کے بحران کے حوالے سے امریکا' یورپ اور اسرائیل کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی' ان ممالک نے بشار حکومت کو ختم کرنے کے لیے جو کھیل شروع کیا تھا' وہ اب ان کے اپنے گلے پڑ گیا ہے' اس خطے میں انتہا پسندی کو فروغ بھی امریکا نے دیا اور اب اسرائیل یہ الزام بشار حکومت پر عائد کر رہا ہے۔