تھرپارکر کا المیہ اور حکومت کی خاموشی

تھرپارکر میں قحط کا قہر کیا کیا غضب ڈھا گیا‘ انسانی جانیں بے وقعتی کا لبادہ اوڑھے اس قحط کی بھینٹ چڑھتی چلی گئیں


Editorial March 21, 2014
تھرپارکر میں قحط کا قہر کیا کیا غضب ڈھا گیا‘ انسانی جانیں بے وقعتی کا لبادہ اوڑھے اس قحط کی بھینٹ چڑھتی چلی گئیں ۔ فوٹو : فائل

تھرپارکر میں قحط کا قہر کیا کیا غضب ڈھا گیا' انسانی جانیں بے وقعتی کا لبادہ اوڑھے اس قحط کی بھینٹ چڑھتی چلی گئیں مگر حکمران اس سے یوں منہ موڑے بیٹھے رہے جیسے یہ انسانی جانیں نہ ہوں کیڑے مکوڑوں کے مرنے کے معمول کے واقعات ہوں۔ میڈیا نے شور مچایا تو حکمرانوں نے جنبش کی بھی تو بس اتنی سی کہ معمولی امداد روانہ کر کے اس کو بھول گئے کہ وہ مستحقین تک پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ سترہ مارچ کو سپریم کورٹ نے تھر کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ سے وضاحت مانگی کہ جب پانچ سال قبل اقوام متحدہ نے قحط کی رپورٹ دی تھی تو حکومت نے اسے کیوں نظر انداز کیا اور اس کا ذمے دار کون ہے۔ اسے پر سوائے افسوس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ جب حکومت کو پانچ سال قبل تھر کے قحط کی رپورٹ مل گئی تھی تو اس نے اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیوں نہ کیے اور لوگوں کو یوں موت کے حوالے کیوں کیا گیا۔ کیا حکمرانوں کے نزدیک پسماندہ علاقوں کے رہنے والے شہریوں کی زندگی قطعی اہمیت کی حامل نہیں۔ تھر کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے یہ تسلیم کیا کہ جون جولائی میں بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی ہوئی۔

جب سندھ حکومت اور انتظامیہ کو یہ علم ہو گیا تھا کہ جون جولائی میں بارشیں نہ ہونے سے تھر خشک سالی کی لپیٹ میں آ جائے گا تو تب بھی اس خوں چکاں صورت حال کا تدارک نہ کیا گیا۔ سندھ میں خوراک اور ادویات کی کمی نہیں اور نہ وسائل ہی کی کوئی قلت ہے کہ تھر کی صرف11 لاکھ آبادی کی زندگی کا تحفظ نہ کیا جا سکے۔ سیکریٹری صحت سندھ کے مطابق غذائی قلت اور بیماریوں کی وجہ سے مٹھی میں99 بچوں سمیت 127 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ تھر کا یہ المیہ سول انتظامیہ کی نااہلی اور سنگین غفلت کا ماحصل ہے کہ تھر کے لوگوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا اور لوگ غذائی قلت سے مرتے رہے۔ تھر کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں بلکہ اسپتالوں کی صورت حال بھی دگرگوں ہے۔ بیمار لوگ زندگی کی تلاش میں اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں مگر ناقص انتظامات کے باعث موت وہاں بھی زیادہ دن جینے کی مہلت نہیں دیتی۔ تھر کے متاثرین کی امداد کے لیے وزیراعظم میاں نواز شریف نے نقد رقم بھجوانے کا اعلان کیا ہے جو خوش آیند ہے۔

تھر کے لوگوں کے لیے ہنگامی طور پر گندم کی صرف36 سو بوریاں ہی پہنچائی گئیں مگر ابھی تک لاکھوں لوگ گندم سے محروم اور بھوک کا عذاب سہنے پر مجبور ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تھر کے بحران پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور لوگوں کو مستقبل میں بھی قحط کی صورت میں موت کے حوالے کر دینے کی روش بدستور قائم ہے۔ نوجوان انسانی خدمت کے جذبے کے تحت طب کے پیشے میں آتے ہیں مگر افسوس وہ بھی انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے پسماندہ علاقوں میں جانے کے بجائے شہروں میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ حکومت ہائوس جاب کرنے والے ڈاکٹروں اور ایم بی بی ایس سال آخر کے طلباء کو تھرپارکر اور دور دراز کے علاقوں میں چند ماہ لازمی طور پر طبی خدمات دینے کا پابند بنائے تاکہ ان پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔ سندھ حکومت مستقبل میں تھر کے بحران سے بچنے کے لیے وہاں پانی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرے' اسپتالوں کی حالت بہتر بنائے اور ہنگامی صورت حال میں امداد فراہم کرنے کا نظام بہتر بنائے ورنہ تھر کے لوگ یونہی مرتے رہیں گے۔