متنازع فلم پر مسلمانوں کے احتجاج میں شدت

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کی آڑ میں اسلامی دنیا کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے


Editorial September 15, 2012
اسلام کے حوالے سے توہین آمیز فلم کے خلاف کئی مسلم ممالک میں مظاہرے کئے گئے، یمن میں مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کر دیا اور کمپائونڈ میں آگ لگا دی۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکا میں بننے والی متنازع فلم پر احتجاج کا دائرہ متعدد مسلم ممالک تک پھیل گیا ہے۔

لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت کے بعد یمن میں بھی مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کر دیا اور کمپائونڈ میں آگ لگا دی جب کہ متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ قاہرہ میں بھی مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر حملے کی کوشش کی، وہاں جھڑپوں میں دو سو افراد زخمی ہو گئے۔ ایران' عراق' اردن' لبنان کے دارالحکومت بیروت' بنگلہ دیش، غزہ 'کویت اور پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں بھی مظاہرے ہوئے۔

کویت میں تو مظاہرین اس قدر مشتعل ہوئے کہ انھوں نے القاعدہ کا جھنڈا لہرا دیا اور جوش میں آ کر نعرے لگانے شروع کر دیے کہ ''اوباما! ہم سب ہیں اسامہ''۔ سعودی عرب' انڈونیشیا' مراکش اور الجزائر کی حکومتوں نے بھی اسلام مخالف فلم کی مذمت کرتے ہوئے اسے یوٹیوب سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور یورپ کی جانب سے مسلم ممالک کے خلاف فوجی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

مسلمانوں کے دانش ور حلقے پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی انتہائی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور مسلمان کسی بھی صورت دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے حامی نہیں۔ اِدھر مسلم حلقوں کی جانب سے امن کے راستے بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اُدھر مغربی دنیا میں چند شر پسند عناصر اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی ایسی مذموم حرکت کر گزرتے ہیں جس سے پوری مسلم دنیا میں اشتعال پھیل جاتا ہے۔

کبھی توہین آمیز خاکے بنائے جاتے ہیں تو کبھی قرآن پاک کو جلانے کی ناپاک جسارت کا اعلان کیا جاتا ہے اور اب اسلام مخالف فلم کی آڑ میں مسلم اور غیر مسلم دنیا کے درمیان نفرت کی خلیج کو گہرا کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ امریکی صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکا تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور وہ دوسروں کے مذاہب کی بے حرمتی کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لائیں گے۔ امریکی صدر کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اسلام بھی تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے ۔دوسرے مذاہب کے بارے میں توہین آمیز حرکات کا آغاز بھی امریکا اور یورپ ہی سے ہوتا ہے نہ کہ مسلم ممالک کی جانب سے۔

مسلمان ابتدائی طور پر احتجاج کرتے ہیں تو امریکا اور یورپ کی جانب سے ان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے مذموم کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ اسے آزادی اظہار کا نام دے کر ایسے شرپسندوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مسلم دنیا میں امریکا اور یورپ کے خلاف احتجاج میں شدت آ جاتی ہے جو رفتہ رفتہ تشدد کا روپ دھار لیتا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کی آڑ میں اسلامی دنیا کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے اور وہ افغانستان' عراق اور لیبیا کے بعد اب شام میں قتل و غارت کا گھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ان کے اس رویے نے بھی مسلم دنیا میں ان کے خلاف نفرت کو مہمیز کیا ہے اور پھر جب اسلام کے خلاف کوئی توہین آمیز حرکت ہوتی ہے تو یہ نفرت تشدد کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ لیبیا اور یمن میں امریکی سفارتخانے پر حملے بھی اسی نفرت کا تسلسل ہیں۔

امریکا اور یورپ کی حکومتیں اسلام کے بارے میں توہین آمیز حرکت کرنے والوں کے خلاف شروع میں ہی کوئی کارروائی کریں تو مسلم دنیا میں ان کے خلاف اشتعال نہیں پھیلے گا۔ اگر امریکا اور یورپ دوسرے مذاہب کی توہین کرنے والوں کے خلاف سزا کا قانون تشکیل دے لیں تو پھر مسلم دنیا کو بھی اوباما کی اس بات پر یقین آ جائے گا کہ امریکا حقیقتاً تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ صرف یہ کہہ دینے سے کہ وہ دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں مسئلہ حل نہیں ہو گا' انھیں عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ واقعی دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔