پھر وہی اسامہ اور امریکا

امریکا دنیا کا امیر ترین، مقروض ترین اور بدنیت ترین ملک ہے


Abdul Qadir Hassan September 15, 2012
[email protected]

لاہور: ملک کی سب سے بڑی درسگاہ کے سربراہ یعنی استاد الاساتذہ جناب مجاہد کامران نے اس ادارے کے اساتذہ کی روایت سے ذرا ہٹ کر امریکا کو بے نقاب کرنے کی جرات کی ہے اور امریکا کے اصل مقاصد اور اس کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ میرے لیے کسی استاد اور وہ بھی ایک سب سے بڑے قومی تعلیمی ادارے کے سربراہ کی طرف سے ایسی سیاسی گفتگو کی بالعموم توقع نہیں کی جاتی۔

وہ حال ہی میں 'نائن الیون اور ورلڈ وار تھری' کے موضوع پر ایک خصوصی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جو جامعہ کی اکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا۔ بہر حال اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ استاد محترم نے بتایا کہ 2006ء میں پاکستان کے خفیہ اداروں نے اسامہ کی میت قبر سے نکال کر اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے بعد امریکا کے حوالے کر دی تھی۔

امریکا نے اس کی ہلاکت کا حالیہ واقعہ ایبٹ آباد والا اس لیے گھڑا تھا کہ پاکستان کو دبائو میں لایا جائے، اس کی ساکھ خراب ہو اور اس سے مرضی کے کام لیے جائیں۔ جناب وی سی کے مطابق 9-11 کا واقعہ بھی ایک ڈھونگ تھا اور اس لیے رچایا گیا تا کہ دنیا کو دھوکہ دے کر اس پر قبضہ کی صورت نکالی جائے۔

انھوں نے کہا کہ بین لاقوامی محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نائن الیون کا واقعہ امریکا کے خفیہ اداروں نے امریکا کے ان چند خاندانوں کے ایماء پر برپا کیا تا کہ امریکی عوام کو جنگ میں جھونک دیا جائے، اسی وجہ سے امریکی فوجیں وسطی ایشیاء تک آ گئیں۔ جناب مجاہد کامران کے خیال میں پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ لوٹ مار کے باوجود مثبت اور پازیٹو ہے جب کہ امریکا کا منفی اور مائنس ہے۔

امریکا کا جی ڈی پی 14 کھرب ڈالر جب کہ اس کا کل قرضہ 54 کھرب ڈالر ہے۔ امریکی عوام اس قرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ امریکا کا مرکزی بینک ایک پرائیویٹ ادارہ ہے جو نوٹ چھاپ چھاپ کر حکومت کو بھاری شرح سود پر قرض دیتا ہے۔ یہ بینک بھی انھی چند خاندانوں کی ملکیت ہے جنہوں نے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکا دنیا کا امیر ترین، مقروض ترین اور بدنیت ترین ملک ہے۔ جس کے پاس بے پناہ طاقت ہے اور جس نے دنیا کو اپنی اس طاقت کی وجہ سے غلام بنا رکھا ہے۔ مجاہد کامران نے بجا طور پر شکوہ کیا ہے کہ میڈیا اس صورت حال کو عوام کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ اس استاد کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستانی میڈیا سیاستدانوں اور سیاست کے نرغے میں ہے اور ملک کی تباہی کا سامان وہ لوگ کر گئے ہیں جو جابر تھے۔

ہمارے نمایندے نہیں تھے۔ امریکا کے سامنے فٹافٹ سر کس نے جھکایا، وہ ہمارا پرویز مشرف تھا۔ چھوٹے ذہن اور سوچ کا آدمی جو پاکستانیوں کی خرید و فروخت کا گھٹیا کام بھی کرتا تھا۔ حکمران مائی باپ ہوتے ہیں مگر یہ ایک خونخوار باپ تھا بہر کیف ہمارے ملک کو میڈیا نے نہیں دوسروں نے بیچا اور رسوا کیا۔ اسامہ کی بات کیجیے، یہ مجاہد جس نے تن تنہا ایک سپر پاور کو رلا دیا اور جو افغانستان کی کسی چٹان کی طرح توانا اور تنا ہوا تھا۔

امریکا کے لیے جان کا خطرہ بن گیا تھا۔ بددیانت امریکا اپنی تمام تر فوجی طاقت کے باوجود ایمان سے محروم تھا، اس کی سپاہ کے دلوں میں شجاعت نہیں تھی، ان کے ہاتھ کی بندوق ہی ان کی طاقت اور شجاعت تھی اور جدید سے جدید مہلک اسلحہ ان کی بہادری کا راز تھا۔ آج بھی یہی ہے اور امریکا بھی روس کی طرح ایمان سے سرشار افغانوں سے گھبرا کر ان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔

کسی نہ کسی امریکی جرنیل کے منہ سے بات نکل ہی جاتی ہے۔ ایک جرنیل نے کہا کہ پتھروں کے ساتھ کون لڑ سکتا ہے اور ایک روسی افسر نے واپسی کے وقت افغانستان کی سرحد پر کھڑے ہو کر کہا، اب اپنی نسلوں کو بھی منع کر جائیں گے کہ ادھر کا رخ نہ کریں۔

نئی افغان قوم جب سے معرض وجود میں آئی ہے، وہ کسی کی غلام نہیں رہی، آزادی اس کی فطرت میں ہے جس طرح غلامی ہماری فطرت میں ہے' ہر بڑے کی اطاعت اور فرمانبرداری لازم ہے ورنہ جینا مشکل ہو گا۔ انگریز گیا اور ہم سو ڈیڑھ سو برس کی غلامی کے بعد انگریز کے غلاموں کی غلامی میں آ گئے اور اب تک انھی کی حکومت کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔

قائد نے تقریر میں ان لوگوں کو کھوٹے سکے کہا تھا لیکن اس تقریر کی صرف ایک بات یاد کی جاتی ہے، وہ بھی غلط مطلب کے ساتھ بہر کیف امریکا اور کہیں کامیاب ہو نہ ہو پاکستان کی حد تک وہ کامیاب ہے بلکہ یوں کہیں کہ مسلمان دنیا کی اکثریت میں اس کا غلبہ موجود ہے۔ کوئی آمر ہے تو کوئی بادشاہ، یہ سب امریکا کے رحم و کرم پر ہیں۔

امریکی چونکہ ایک احمق قوم ہیں، اس لیے یہ ان کی حماقت تھی کہ مشرق کی سمت فوج کشی کی جب کہ یہ کام صرف حکمرانوں کے ذریعے بھی ہو سکتا تھا۔ امریکی حماقت دیکھئے کہ وہ روس کے زندہ تجربے کو بھول کر افغانوں پر چڑھ دوڑا، اب واپسی کے راستے ڈھونڈ رہا ہے اور خطرے میں پاکستان ہے جہاں سے اسے واپس جانا ہے، یہیں سے وہ افغانستان گیا اور ہمیں تباہ کر دیا۔ اب اسی راستے سے واپسی ہو گی جو کسر باقی ہے وہ نکل جائے گی۔

اسامہ کے بارے میں پروفیسر مجاہد کامران کے انکشاف پر بحث جاری ہے اور اسے ایک افسانہ تک کہا جا رہا ہے یعنی ہمارا یہ استاد کسی رپورٹر جتنی سوجھ بوجھ اور معلومات بھی نہیں رکھتا، خود امریکا نے آج تک 9-11 کی رپورٹ ظاہر نہیں کی کیونکہ اس سے وہ بری طرح بے نقاب ہوتا ہے۔ انسان کش سرمایہ دارانہ نظام کا مرکز امریکا کب تک اپنے اس نظام کے ساتھ زندہ رہے گا، معلوم نہیں۔

سوویت یونین تو ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا، سید مودودی کے بقول کمیونزم ملک کے چوک میں اوندھے منہ پڑا ہو گا اور ایسا دنیا نے دیکھ بھی لیا، اب سرمایہ دارانہ نظام کو نیو یارک کی بلند عمارتوں پر لٹکتا ہوا دیکھنا باقی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس بے ہودہ امریکا سے بچا کیسے جائے، یہ بھی ہمیں کوئی پروفیسر بتا دے۔

مقبول خبریں