حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع سمیت دیگر امور پر اتفاق

مذاکرات کےدوران حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی سے متعلق فہرستوں کا بھی تبادلہ ہوا، ذرائع


ویب ڈیسک March 26, 2014
مذاکرات کے دوران بہتر روابط کے لئے آئندہ بھی کمیٹیوں میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ فوٹو:فائل

حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان براہ راست مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع سمیت دیگر امور پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومتی اور طالبان کمیٹی کے ارکان طالبان شوریٰ سے براہ راست مذاکرات کے لئے پشاور سے براستہ ہیلی کاپٹر شمالی وزیرستان کے خفیہ مقام پہنچے جہاں حکومتی کمیٹی کے ارکان نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کو فون کرکے طالبان شوری سے براہ راست مذاکرات کے آغاز کی اطلاع دی جس کے بعد طالبان شوریٰ اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے جس میں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی بھی شامل تھی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری رکھنے اور مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی تک جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کے ساتھ بہتر روابط کے لئے بھی آئندہ کمیٹیوں کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات کےدوران حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت اور قیدیوں کے ناموں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ ہوا۔

طالبان شوریٰ سے مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہونے کے بعد حکومت اور طالبان کی رابطہ کار کمیٹی شمالی وزیرستان سے واپس روانہ ہوگئیں۔ طالبان شوریٰ سے ملاقات کے لئے شمالی وزیرستان جانے والی حکومتی کمیٹی میں حبیب اللہ خٹک، ارباب عارف، فواد حسن فواد اور رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ طالبان کمیٹی میں مولانا سمیع الحق، پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ شامل تھے۔

مذاکرات کے لئے روانگی سے قبل طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی پہلی ترجیح ہے اور دونوں کمیٹیاں اپنے اپنے نکات پربات کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان شوریٰ کی نمائندگی قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکراور مولوی بشیرکریں گے، فریقین آمنے سامنے ہوں گے تو ایک دوسرے کے مطالبات کو سننے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں آسانی ہوگی۔
[poll id="209"]

مقبول خبریں