پی ٹی آئی کارکنان کا ملک گیر احتجاج ختم

مظاہرین نے ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے فیض آباد انٹرچینج کو بند کردیا جس پر پولیس سے جھڑپیں ہوئیں


ویب ڈیسک November 05, 2022
(فوٹو : فائل)

پی ٹی آئی کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی کال پر ایک بار پھر مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے فیض آباد انٹرچینج پر احتجاج کرتے ہوئے اسے ٹریفک کے لیے بند کیا تاہم تھوڑی دیر بعد کارکنان خود ہی منتشر ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے گزشتہ روز کی طرح آج بھی مختلف شہروں میں احتجاج کی کال دی اور فیصلہ کیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید احتجاج کیا جائے گا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے کارکنوں نے دونوں شہروں میں احتجاج شروع کیا۔

یہ پڑھیں : فیض آباد ہنگامہ آرائی; اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج

فیض آباد کے مقام پر پی ٹی آئی کارکنان نے احتجاج کرتے ہوئے فیض آباد سے پنڈی آنے والا ٹریفک بلاک کیا۔ ٹریفک بلاک ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ اس دوران احتجاج میں سابق ایم این اے شیخ راشد شفیق، سابق صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ بھی پہنچے۔

فیض آباد کے قریب حالات کشیدہ ہوئے۔ فیض آباد انٹرچینج سے اسلام آباد پولیس نے شدید شیلنگ کی۔ فیض آباد کے قریب تمام کاروباری مراکز بند کردئیے گئے۔ مرکزی شاہراہ بند ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

فیض آباد میں پی ٹی آئی کارکنان نے پٹرول پمپ پر توڑ پھوڑ کی کوشش کی جس پر پٹرول پمپ کے سیکیورٹی گارڈز نے پی ٹی آئی کارکنان کو توڑ پھوڑ سے روک دیا۔ اس دوران بجلی جانے کے وجہ سے فیض آباد کا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد انتظامیہ کا پی ٹی آئی کو جلسے، دھرنے کی اجازت دینے سے انکار

راولپنڈی میں روات جی ٹی روڈ پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کی اور ٹریفک کی روانی روکی۔ کارکنان نے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جس پر اسلام آباد پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ شروع کی۔

اٹک میں بھی پی ٹی آئی نے احتجاج کیا، مظاہرین نے باہتر انٹرچینج کو بلاک کرکے گاڑیوں کو جانے سے روکا۔

لاہور

لاہور لبرٹی چوک پر احتجاج کیا جہاں شفقت محمود، ڈاکٹریاسمین راشد، مسرت جمشید، مرادراس بھی پہنچے۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس چوک کو بند کیا۔

سی ٹی او لاہور نے احتجاج کے سبب بند سڑکوں سے متعلق اعلامیہ جاری کیا، مظاہرین نے گورنر ہاؤس چوک کو بند کیا، ٹھوکر نیاز بیگ ان/ آؤٹ بھی ٹریفک کے لیے بند کی گئی۔ سی ٹی او لاہور کے مطابق شاہدرہ چوک، شنگھائی پل، بابو صابو، فیصل چوک پر بھی احتجاج جاری ہے، شہریوں کو متبادل راستے فرام کرنے کے لیے اہلکار اور افسران الرٹ رہے۔


پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے صوبائی انٹیلی جنس سینٹر کی جانب سے رپورٹ مرتب کرلی گئی جس کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پنجاب بھر کے 32 مقامات پر احتجاج کیا جبکہ صوبائی دارالحکومت کے 6 مقامات پر احتجاج کیا۔


رپورٹ کے مطابق شوکت خانم ، شاہدرہ اور سگیاں پل پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کا احتجاج جاری ہے، بابو صابو اور رنگ روڈ اور گورنر ہاؤس کے باہر بھی تحریک انصاف کے کارکنان احتجاج کر رہے ہیں، گوجرانولہ میں چن دا قلعہ، گجرات میں صدر کھاڑیاں اور شاہین چوک پر احتجاج ہوا۔


رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کے 8 مقامات پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے احتجاج کیا، شوکت خانم کے باہر اور صدر واہ کے مقام سے مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔


پشاور


پشاور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے پشاور سے اسلام آباد جانے والے موٹر وے انٹر چینج کو بند کیا جس کے سبب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگیں تاہم قیادت کے حکم پر کارکنان سائیڈ میں ہوئے اور پھر موٹروے پر ٹریفک بحال ہوا۔

مقبول خبریں