صدر ممنون حسین کا چار ملکی سربراہ اجلاس سے خطاب

صدر ممنون حسین سے ون آن ون ملاقات کے موقعے پرایرانی صدر حسن روحانی سے سرحدی گارڈز کے اغوا کا مسئلہ اٹھایا


Editorial March 28, 2014
صدر ممنون حسین سے ون آن ون ملاقات کے موقعے پرایرانی صدر حسن روحانی سے سرحدی گارڈز کے اغوا کا مسئلہ اٹھایا فوٹو:پی آئی ڈی/فائل

صدر ممنون حسین نے جمعرات کو کابل میں پاکستان' افغانستان' ایران اور تاجکستان کے چار ملکی سربراہ اجلاس سے خطاب میں خطے کو درپیش انتہا پسندی' دہشت گردی' منشیات' اسمگلنگ اور منظم جرائم کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دو طرفہ اور علاقائی سطح پر تعاون کو مزید تقویت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری آیندہ نسلیں بہتر اور تابناک مستقبل کی مستحق ہیں' ان کی توقعات اور امنگوں کو ایک پرامن ماحول اور استحکام کی فضا میں ہی پورا کیا جا سکتا ہے، پاکستان امن اور استحکام کی جستجو کے حصول میں افغان عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

صدر ممنون حسین کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ اس پورے خطے کو انتہا پسندی اور منظم جرائم کا سامنا ہے اور ان درپیش مسائل سے نہ صرف پاکستان' ایران اور افغانستان اندرونی طور پر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان ممالک کے باہمی تعلقات کے استحکام میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انتہا پسندی اور منظم جرائم میں ملوث گروہوں نے جہاں پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو متاثر کیا وہاں وہ اب پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ایران کے سرحدی محافظ کے قتل اور دیگر کے اغوا کے مسئلے نے پاکستان اور ایران کے درمیان نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایران اور پاکستان برادر اسلامی ملک ہیں جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے اور ان کے عوام کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں۔ ایران اور پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے مگر اب ایرانی سرحدی محافظوں کا تنازعہ کھڑا کر کے ایران اور پاکستان کے تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ سب کسی عالمی سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

کابل میں پاکستانی صدر ممنون حسین سے ون آن ون ملاقات کے موقعے پر جب ایرانی صدر حسن روحانی نے سرحدی گارڈز کے اغوا کا مسئلہ اٹھایا تو صدر ممنون حسین نے انھیں بھرپور یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں میں دہشت گردی نہیں ہونے دے گا' ایرانی سیکیورٹی گارڈز کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں' ایران سیکیورٹی گارڈ کے اغوا کا ثبوت دے' ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں گے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ ایرانی صدر نے اس موقع پر پاکستان کے موقف اور حمایت کا خیرمقدم کیا۔ پاکستان خود دہشت گردی جیسے مسئلہ کا شکار ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے بھرپور کوشاں ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کو واضح طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے معاملات میں قطعی مداخلت کا قائل نہیں اور خطے کے مسائل کو باہمی مشاورت اور تعاون سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کے اس بیان کا پورے خطے میں خیرمقدم کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود غلط فہمیاں دور ہو گئیں اور دونوں کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ چار ملکی سربراہ اجلاس کے موقعے پر افغان صدر حامد کرزئی کو بھی یہ کہنا پڑا کہ دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے' دونوں ملکوں کو مل کر اس سے نجات حاصل کرنا ہو گی' انھوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اس خطے میں ایسے گروہ موجود ہیں جو اپنی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کے ایران اور افغانستان سے تعلقات میں بگاڑ لانا چاہتے ہیں لہٰذا ان ممالک کی حکومتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان گروہوں کی سازش کا شکار ہونے کے بجائے کسی بھی مسئلے کو دانشمندی اور باہمی تعاون سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ان ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور تعاون کا عمل جتنا مضبوط اور گہرا ہو گا اتنا ہی وہ باہمی مسائل اور تنازعات کو بہتر انداز میں حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ صدر ممنون حسین نے بھی اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اگر ہمارے ہمسائے یا خطے میں امن نہ ہو تو ہم بھی پرامن نہیں رہ سکتے' افغانستان میں پائیدار امن کا راستہ امن مذاکرات ہی میں پوشیدہ ہے' پاکستان' افغانستان' ایران اور تاجکستان مشترکہ تاریخ' ثقافت اور عقیدے کے دیرینہ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں' ہمارا مشترکہ ماضی ایک پرامید مستقبل کے مشترکہ وژن کی تشکیل کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور دہشت گردی کے مسائل کے باعث بھی یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیتے ہوئے باہمی رابطے کو مضبوط بنائیں اور متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ صدر ممنون حسین کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ہمسایے میں بھی امن ہو۔

افغانستان میں ہونے والے بدامنی کے حالات کے پاکستان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان مہاجرین کے پاکستان میں آنے سے یہاں بہت سے مسائل پیدا ہوئے جو ابھی تک موجود ہیں۔ اس لیے موجودہ پاکستانی حکومت کی یہ بھر پور کوشش ہے کہ اس کے ہمسایے ممالک میں زیادہ سے زیادہ امن قائم ہو کیونکہ اس طرح باہمی تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھنے سے پورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ ایرانی حکومت ہر بحران سے بڑی دانشمندی سے نکلی ہے اب بھی امید ہے کہ وہ سرحدی محافظوں کے مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے پاکستانی حکومت سے تعاون کرے گی۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی درخواست پر پاکستانی حکام نے کئی بار متعلقہ علاقہ چھان مارا ہے لیکن وہاں سے مغوی سرحدی محافظوں کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پاکستان یہ بخوبی جانتا ہے کہ ترقی کے لیے امن و استحکام بنیادی تقاضا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور رابطوں میں جتنی مضبوطی آتی جائے گی انتہا پسندی کا عفریت بھی دم توڑتا جائے گا۔