شکست کی کڑوی گولی سے کرکٹ کا بخار اُتر گیا

کام کاج چھوڑ کر میچ دیکھنے والے شائقین پلیئرز کو ناقص کھیل پربرا بھلا کہہ کر بھڑاس نکالنے لگے، سابق کرکٹرز بھی برس پڑے


Sports Reporter April 02, 2014
کام کاج چھوڑ کر میچ دیکھنے والے شائقین پلیئرز کو ناقص کھیل پربرا بھلا کہہ کر بھڑاس نکالنے لگے، سابق کرکٹرز بھی برس پڑے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: شکست کی کڑوی گولی سے کرکٹ کا بخار اتر گیا، کام کاج چھوڑ کر میچ دیکھنے والے شائقین اب ٹیم کو ناقص کھیل پر برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کیخلاف شرمناک شکست کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹرز بھی گرین شرٹس پر برس پڑے، میانداد نے کہا کہ اچھاکھیل کر ہارنا سب کو قبول لیکن بغیر لڑے ہتھیار ڈال دینا قوم کو منظور نہیں ہے،انھوں نے کہا کہ گو کہ ٹیم میں کوالٹی پلیئرز کا فقدان ہے اس کے باوجود وہ اتنی بھی بُری نہیں جتنی بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔محمد یوسف نے کہا کہ بڑے افسوس سے کہتا ہوں کہ ہمارے ایک بھی بیٹسمین کی تکنیک اچھی نہیں ہے، صرف چوکے یا چھکے لگاناکرکٹ نہیں اصل بیٹنگ سنگلز لینا ہے۔عبدالقادر نے کہا کہ شرمناک شکست کے بعد چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، کپتان محمد حفیظ اور مینجمنٹ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔

انھوںنے کہا کہ یہ کیا طریقہ ہوا کہ عالمی مقابلوں میں آپ شرمناک طریقے سے ہاریں اور واپسی پر بڑے آرام سے ''سوری'' کہہ دیں،یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔شعیب اختر نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی شرمناک ہے، میچ میں کلب سطح کے کھلاڑی بھی ہوتے تو ہماری قومی ٹیم کے بیٹسمینوں سے زیادہ بہتر بیٹنگ کرتے ،انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس کو ہدف کا تعاقب کرنا پڑے تو بیٹسمینوں کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں، وہ ہٹ لگاتے اور آئوٹ ہو جاتے ہیں، ہمارا اصل مسئلہ بیٹنگ کا ہے، بدقسمتی سے ٹیم میں ایک بھی کوالٹی پلیئر موجود نہیں، احمد شہزاد کے ٹیلنٹ کا کیا فائدہ جو وقت پر ٹیم کے کام ہی نہ آ سکے۔ محسن خان نے کہا کہ بار بار کہتا رہا ہوں کہ ہمیں کوئی آئوٹ نہیں کر رہا بلکہ ہم خود اپنی وکٹیں گنوا رہے ہیں، پاکستان کا شمار دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیموں میںہوتا ہے لیکن جس طرح ٹیم میچ ہاری وہ افسوسناک ہے۔