پاک ایران تعلقات کا نیا تناظر

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایران کے گلے شکوے اور تحفظات دور کیے جائیں گے


Editorial April 04, 2014
وزیر اعظم نواز شریف جلد ایران کا دورہ کریں گے، ترجمان دفتر خارجہ فوٹو:فائل

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایران کے گلے شکوے اور تحفظات دور کیے جائیں گے، ایران سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور اپنے معاملات میں کسی دوسرے ملک کی عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ دَور چلا گیا جب پاکستان کو جنگوں میں ملوث کیا جاتا تھا۔ دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف جلد ایران کا دورہ کریں گے، دورے کی تاریخ طے کی جا رہی ہے، اس دورے کی تیاری کے لیے مشترکہ کمیشن کا اجلاس بلانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

مذکورہ بالا سطور اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاک ایران تعلقات میں نئی گرم جوشی اور تبدیل ہوتے ہوئے جیو پولیٹیکل منظر نامے کے تناظر میں زمینی حقائق کو مد نظر رکھیں تو غلط فہمیوں کی برف پگھلتی نظر آ رہی ہے جب کہ میڈیا اور دیگر غیر ملکی سفارتی حلقوں میں پاک ایران لازوال تاریخی رشتوں میں سیاسی رنجشوں اور معاشی تحفظات و خدشات کے جو تذکرے عام تھے اب لگتا ہے کہ وہ سب مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی قیادت اور حکومت کے پیش نظر ہیں اور صدر ممنون حسین اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے ایران کے حالیہ دوروں کے بعد یہ امید باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستان اور ایران کے مابین قدیم دوستی سبک رفتار سیاسی و سفارتی قربت ''اسموتھ سیلنگ'' کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

تاہم اس سمت میں تدبر، تعقل اور دور اندیشی پر مبنی دور رس فیصلوں اور متحرک حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں پاک ایران ہمسائیگی کا دونوں برادر ملکوں کے برس ہا برس کے مشترکہ تجربات اور عالمی و خطے میں رونما ہونے والے ناگزیر حوادث کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو امریکی مداخلت کے باعث گیس پائپ لائن معاہدہ سے لے کر ایران کے سرحدی محافظوں کے حالیہ مبینہ اغوا اور ان میں ایک اہلکار کے افسوس ناک قتل کے الزامات سے حائل ہوئیں۔

اگرچہ وزیر اطلاعات کا بیان مستقبل کے پرامن پاکستان کے امکانات کے حوالہ سے انتہائی امید افزا اور اہمیت کا حامل ہے اور اسی تناظر میں پاکستان نے ایرانی سرحدی محافظوں کے اغوا اور ایک گارڈ کے قتل کی پُرزور مذمت بھی کی ہے، مگر ساتھ ہی جہاں تک ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کا تعلق ہے کہ ایرانی فورسز پاکستان کے علاقے میں آپریٹ کر سکتی ہیں پاکستان نے اصولی طور پر کہا ہے کہ ایرانی فورسز کے پاس سرحد پار کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اور یوں بھی دو برادر ملک اس تنازعہ کا کوئی پرامن حل جلد تلاش کر لیں گے۔ ایران کی طرف سے سرحدی مداخلت بہرحال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔ اس لیے دونوں ہمسایہ ملکوں کو ایک دوسرے کی سرحدوں کا خیال رکھنا ہوگا۔

یہاں قارئین کرام کو پاک ایران تعلقات کے نشیب و فراز سے آگاہ مبصرین اور سیاسی و سفارتی حلقوں کے روایتی انداز نظر سے ہٹ کر بعض بنیادی حقائق کی نشاندہی کرنا اشد ضروری ہے تا کہ خطے میں ہونے والی پیش رفت اور گریٹ گیم کے نئے دورانئے کے مختلف کرداروں کی کشمکش کی وضاحت ہو سکے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایران وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور شاہ ایران پہلے سربراہ مملکت تھے جنھوں نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، لیکن یہ غور طلب بات ہے کہ دو ہمسایہ حلیف و برادر ملکوں میں نیوٹرل رہنے کا سلسلہ کب، کیوں اور کن طاقتوں نے شروع کرایا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پاکستان نے آیت اﷲ خمینی کی قیادت میں برپا کیے گئے اسلامی انقلاب کی حمایت کی اور اس وقت سے آج تک پاک ایران دو طرفہ تعلقات میں بہتری کا سفر چند تحفظات کے باوجود جاری ہے۔

تاہم سرد جنگ کی پیدا کردہ تزویراتی اور سیاسی و عسکری حرکیات اور عالمی قوتوں کی ریشہ دوانیوں اور دبائو سے جہاں خطے میں یکبارگی شورشوں نے سر اٹھائے، وہاں ایران عراق وار میں دو مسلم برادر ملک لہو لہان ہوئے، خلیج کی جنگ میں نیٹو فورسز نے کیا کچھ نہیں کیا، فلسطینی عوام آج بھی آزاد و محفوظ مادر وطن کو ترس رہے ہیں، اسرائیل کی جارحیت کو لگام دینے والا کوئی نہیں، صدام نے کویت پر چڑھائی کی، اسرائیل نے لبنان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، امریکا نے افغانستان پر نائن الیون کا ستم ڈھایا، اسی مخدوش صورتحال میں پاکستان کو دہشت گردی کے عذاب نے آ لیا۔ سامراجی مفادات کے باعث پاک ایران تعلقات بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، بلوچستان اور افغانستان کے مسئلہ نے خطے کو آتشکدہ بنا دیا ہے، طالبان کا ظہور اسی صورتحال کا نتیجہ ہے۔

ادھر مشرق وسطیٰ کی زلزلہ خیز صورتحال میں عرب ممالک میں جمہوری تحریکوں نے زور پکڑا، مصر، تیونس، شام، بحرین اور سعودی عرب کو درپیش نئے سیاسی، سماجی اور عوامی مطالبات کا سامنا ہے۔ اسی سیناریو میں پاکستان کا نیا سفارتی، مدبرانہ اور مفاہمانہ کردار ابھر کر سامنے آیا ہے، نواز شریف کے لیے چیلنجز داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی مگر مشرق وسطیٰ، افغانستان، ایران سمیت عرب دنیا بلکہ پورے عالم اسلام سے مشترکہ اسلامی اخوت و یکجہتی کے دائمی رشتوں کی لڑی کو مستقل و محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ پاک ایران سرحد پر کسی دخل اندازی کا کوئی امکان نہیں رہنا چاہیے، پاک ایران گیس لائن کے منصوبے پر عملدرامد کیا جائے، پاکستان اور ایران کو باہمی طور پر طے کرنا چاہیے کہ ایک دوسرے کی سلامتی کے خلاف کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ پاک ایران تعلقات کے اس نئے موڑ کو متوازن ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے دوست اسلامی ممالک کا نام لیے بغیر یہ اعلان کر کے در حقیقت افواہوں کی دھند نہ صرف ہٹا دی کہ ''نہ کسی نے فوج مانگی اور نہ دیں گے۔'' بلکہ اس اعلان نے دوست مسلم ممالک کے مابین تنازعات اور کشیدگی کے خاتمہ میں وطن عزیز کے خاموش ثالث بننے کے کردار کو بھی اجاگر کر دیا ہے، ایران کے صلح جُو صدر حسن روحانی نے جہاں امریکا سے 34 سالہ ستیزہ کاری کو مذاکرات کے ذریعے ایٹمی پروگرام پر خوش آیند معاہدہ پر منتج کیا وہاں ان سے یہ توقع بھی حسن ظن نہیں کہ پاکستان اور ایران اپنے اختلافات جلد ختم کر لیں گے۔ کیونکہ دونوں برادر ملک کشیدگی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونیوالے انتخابات کے موقع پر سرحد کو سیل نہیں کیا جائے گا تاہم سیکیورٹی کے تمام تر ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے، افغانستان میں انتخابات کا پُرامن انعقاد وہاں کی سیکیورٹی فورسز کی ذمے داری ہے مگر پاکستان افغان حکومت کو ہر ممکن تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔ ادھر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان میں انتخابی عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں، انتخابی عمل میں ہمارا کوئی مفاد نہیں، ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کون ہارے یا جیتے گا، پاکستان کا افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، تسنیم اسلم کے مطابق ڈرونز کے معاملے پر عالمی برادری پاکستان کے موقف کی حمایت کر رہی ہے، امریکی کانگریس کے ایک رکن نے بھی ڈرون حملوں کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا میں امن کے سفیر کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ فقرہ اسی وقت حقیقت کا روپ دھارے گا جب پاکستان عالمی قوتوں کے رچائے کھیل سے دامن کش ہوتے ہوئے ہمسایہ برادر ملکوں کی قربتوں میں پیدا شدہ فاصلے مٹائے جائیں گے اور ہم سب خطے میں امن و آشتی، سیاسی استحکام اور معاشی آسودگی کے لیے مل جل کر کام کرینگے۔