افغانستان میں صدارتی انتخاب کا کامیاب انعقاد

غیر ملکی فوجوں کی موجودگی میں انتخابی عمل محض ڈرامہ ہے۔..


Editorial April 06, 2014
غیر ملکی فوجوں کی موجودگی میں انتخابی عمل محض ڈرامہ ہے۔ فوٹو؛فائل

لاہور: افغانستان کے صدارتی انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکیوں کے باوجود جمعہ کو سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات میں انتخابی ووٹنگ مکمل ہو گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ پرتشدد واقعات میں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے۔ تاہم افغانستان میں صدارتی انتخاب کے بہت حد تک پر امن انعقاد نے طالبان کی طرف سے کسی بڑی کارروائی خدشات کو غلط ثابت کر دیا اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ افغان عوام بھی اب جمہوریت کا تجربہ کرنے پر آمادہ ہیں جس کا ماضی میں انھیں کوئی تجربہ نہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس صدارتی انتخاب میں 2 سابق وزرائے خارجہ عبداللہ عبداللہ، زلمے رسول اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی سمیت 8 امیدواروں نے حصہ لیا جس کے نتائج کا اعلان 24 اپریل کو ہو گا۔

کابل سے ذرایع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہو کر سہ پہر 5 بجے تک جاری رہی، اس موقع پر 4لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ملک بھر میں موبائل سروس معطل رکھی گئی جب کہ کابل میں ٹریفک کا داخلہ بند رہا، ملک بھر میں تقریباً 6400 ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ35 لاکھ بتائی گئی ہے۔ افغان عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے، ان میں عورتوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی، انتخابی مراکز پر لوگوں کی قطاریں لگی رہیں، کابل میں میلے کا سماں رہا، طالبان کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ قندھار میں خواتین نے بھی حق رائے دہی استعمال کیا گو ان کی تعداد کم تھی، حملوں کے خدشے کے باعث مغربی صوبے ہرات اور شمال مشرقی صوبے کپسا سمیت کئی علاقوں میں کم و بیش 211 پولنگ سینٹر بند رہے۔

صدر حامد کرزئی نے صدارتی محل کے قریب اسکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت امن، ترقی اور استحکام کی جانب اہم قدم ہے۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ احمد یوسف نورستانی کا دعویٰ ہے کہ ٹرن آئوٹ 50 فیصد سے زیادہ تھا کیونکہ 70 لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ افغان وزیر داخلہ عمردائود زئی نے کہا کہ تشدد کے واقعات میں چند شہریوں کے ساتھ متعدد فوجی اور پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے جب کہ کئی حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بعض ہلاکتیں پولنگ اسٹیشنوں پر حملوں اور سڑک پر نصب بموں کے پھٹنے سے ہوئیں۔ بعض علاقوں میں راکٹ بھی داغے گئے۔ ادھر امریکی صدر اوباما نے انتخابات کے انعقاد کا خیرمقدم کیا ہے اور افغان عوام کو مبارکباد دی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بھی انتخابات کو کامیابی قرار دیا۔ عبداللہ عبداللہ، اشرف غنی اور گل آغا شیرزئی نے دعویٰ کیا کہ کچھ علاقوں میں دھاندلی ہوئی ہے اور وہ ثبوتوں کے ساتھ شکایات سیل سے رجوع کریں گے۔ تینوں امیدواروں نے اپنی فتح کا دعویٰ کیا تاہم ان سطور کے لکھے جانے تک ایسا اشارہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کون ہو گا جس کے سر پر صدر کا تاج سجے گا۔ افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے، افغانستان کو طاقت کے زور پر آزاد کروا کر اسلامی نظام نافذ کریں گے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جن لوگوں نے انتخابی جلسوں میں شرکت کی وہ سیاسی امور کا ادراک نہیں رکھتے اور شہروں میں دشمن کی چھتریوں کے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ غیر ملکی فوجوں کی موجودگی میں انتخابی عمل محض ڈرامہ ہے۔ لوگوں کی جلسوں میں شرکت کا یہ مطلب نہیں کہ طالبان، جنھوں نے گزشتہ تیرہ برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی قوت کا مقابلہ کیا اور ان کو 'شکست سے دوچار کیا' ختم ہو گئے۔ بہر حال افغانستان میں صدارتی انتخاب جمہوریت کی جانب مثبت پیش رفت ہے' اگر طالبان کو بھی اس عمل میں شامل کیا جاتا تو بہتر ہوتا کیونکہ اب یہ صدارتی انتخاب کسی نہ کسی حوالے سے متنازعہ رہے گا۔