پاکستان کا محل وقوع اور معاشی ترقی کے مواقع

پاکستان میں اب تک جو حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں انھوں نے کبھی معاشی حکمت عملی کو اپنی ترجیح نہیں بنایا


Editorial April 08, 2014
پاکستان میں اب تک جو حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں انھوں نے کبھی معاشی حکمت عملی کو اپنی ترجیح نہیں بنایا

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ملائیشیا کی ''ایم سی کارپوریشن'' کے چیئرمین سری سید مختار البخاری اور ان کے وفد سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان توانائی، سیاحت، ٹیلی مواصلات، پیشہ ورانہ تربیت، ہوا بازی، مالیاتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملائیشیاکی کمپنیاں پاکستان میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں میں شریک ہیں اور ہم انھیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر، ہائوسنگ اور مواصلاتی شعبے کے منصوبوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان ملک میں ملائیشی بینکوں کی شاخوںکا خیر مقدم کریگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا اپنی مقامی صنعت کے لیے اپنے ہاں زیر تعلیم پاکستانی طالبعلموں کی خدمات حاصل کرکے اور پاکستان سے ہنرمند اور نیم ہنرمند کارکنوں کے ذریعے اپنی افرادی قوت کی ضروریات بھی پورا کرسکتا ہے۔ملائیشیا خاصا ترقی یافتہ ملک ہے اور یہاں روز گار اور کاروبار کے بھی اچھے مواقع موجود ہیں۔ملائیشیا کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کا رشتہ بھی موجود ہے۔ پاکستان ملائیشیا کی ترقی سے خاصا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ملائیشیا کے ساتھ تعاون کے حوالے سے جن شعبوں کی نشاندہی کی ہے' دونوں ملک اگر مل کر کام کریں تو اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ملائیشیاء کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا' فلپائن' ویت نام اور تھائی لینڈ کی معیشت سے بھی فائدہ اٹھائے۔ ان ممالک میں پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بھی وسیع مواقع ہیں اور پاکستان بھی ان ممالک کے لیے اچھی منڈی ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اب تک جو حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں انھوں نے کبھی معاشی حکمت عملی کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ہر حکومت نے قرضے لے کر کام چلانے کی کوشش کی۔یہی وجہ ہے کہ ملک آج تک ترقی نہیں کر سکا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف چینی حکومت کی دعوت پر9 سے11 اپریل تک چین کے صوبہ ہینان میں ہونے والے بائوفورم برائے ایشیا میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کر رہے ہیں۔بائوفورم برائے ایشیا میں شرکت کے موقع پر ''شاہراہ ریشم کی بحالی'' کے موضوع پر سیمینار سے کلیدی خطاب بھی کریں گے جس میں چین، ایران اور قازقستان کے رہنما بھی موجود ہوں گے۔ یہ بہت اچھا موقع ہے ۔پاکستان چین اور وسط ایشیا کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اسی طرح مشرقی ایشیا کے ملکوں کے لیے بھی پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔پاکستان اگر ان مواقع کو استعمال کرے تو بہت جلد ترقی کر سکتا ہے۔