دہشت گردی کی نئی لہر

ملک بھر میں ایک عرصہ سکون رہنے کے بعد دہشت گردی اور تخریب کاری کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا جو تشویش ناک ہے۔


Editorial April 10, 2014
دہشت گردی کا نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد غریب مزدور اور دکاندار ہیں۔ فوٹو؛ ایکسپریس

ملک بھر میں ایک عرصہ سکون رہنے کے بعد دہشت گردی اور تخریب کاری کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا جو تشویش ناک ہے۔ ملکی سالمیت اور قومی وجود کو درپیش ان خطرات سے جرات مندانہ طور پر نمٹنے کے لیے حکومت کو اب فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ دہشت گردی کا عفریت ملکی معیشت، سماجی تحفظ اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سبزی منڈی میں بم دھماکے کے نتیجہ میں 24 افراد جاں بحق اور 120 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق امرود کی پیٹیوں میں چھپایا گیا بم چار سے پانچ کلو گرام وزنی تھا۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد غریب مزدور اور دکاندار ہیں۔

منگل کو ملک بھر میں قتل و غارت گری' کریکر اور بم دھماکے کے واقعات نے اندوہناک صورت حال پیدا کر دی جب کہ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی جعفر ایکسپریس میں سبی ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور درجنوں کے زخمی ہونے کے درد انگیز سانحہ نے ملک بھر میں فضا سوگوار کر دی تھی۔ اسلام آباد سبزی منڈی کی ذمے داری ایک تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کر لی ہے۔ جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے میں یونائیٹڈ بلوچستان آرمی ملوث نہیں' اس تنظیم کا واقعہ کی ذمے داری قبول کرنا حیران کن ہی نہیں بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ ترجمان وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق اب تک کی حکومت' سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات کے مطابق اس واقعہ کی کڑیاں کہیں اور جا کر ملتی ہیں' اس واقعہ میں جو بھی ملوث ہیں' مکمل تحقیقات کے بعد ان کا پیچھا کیا جائے گا۔

دوسری جانب تحریک طالبان کے حوالے سے نئی پیشرفت ہوئی ہے اور انھوں نے عوامی مقامات پر حملوں کو شرعاً حرام قرار دیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سبی میں جعفر ایکسپریس اور اسلام آباد سبزی منڈی میں بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا شریعت میں ناجائز اور حرام ہے' حملوں میں تیسرے ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، انھوں نے کہا کہ ان کے نام پر کوئی اور بم دھماکے کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے طالبان کی جانب سے بم دھماکے سے اظہار لاتعلقی اور مذمت کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے بعد طالبان نے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد امن و امان کی صورت حال میں بہتری آنا شروع ہو گئی تھی مگر اب پھر تخریب کاری کے واقعات کا شروع ہونا تشویش ناک امر ہے جب کہ اب تو کھلم کھلا طالبان بھی بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کو شرعاً حرام قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب وزارت داخلہ اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے میں یونائیٹڈ بلوچ آرمی نامی تنظیم کی ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اب تک کی تحقیقات کے مطابق اس دھماکے کی کڑیاں کہیں اور ملا رہے ہیں۔ اگر کوئی اور گروہ ان دھماکوں میں ملوث ہے تو حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس گروہ کو منظرعام پر لائے اوراس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

ایسی خبریں بھی شایع ہو چکی ہیں کہ ملک بھر میں درجنوں مسلح گروہ بدامنی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ حکومت کا پہلا فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا ہے مگر حکومت تمام تر دعوئوں کے باوجود اس میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ملک کی سالمیت اور سماجی تحفظ کے لیے حکومت کو جرات مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ گومگو کی کیفیت پورے ملک میں ہیجان' اضطراب اور بے یقینی کو جنم دے رہی ہے۔ دوسری جانب تمام سیاسی قوتوں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملکی وحدت اور سالمیت کے تحفظ کے لیے حکومت کا ساتھ دیں کیونکہ تنہا کوئی بھی حکومت تخریب کاری اور دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نہیں نمٹ سکتی۔

اب جب تحریک طالبان نے بھی کھل کر دہشت گردی کی مذمت کی ہے تو ان پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث گروہوں کو بے نقاب کرنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں تاکہ وہ گروہ جو طالبان کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں ان کا سدباب کیا جا سکے۔ جب تک دہشت گردی میں ملوث ان نامعلوم دشمنوں کی کارروائیاں جاری رہیں گی' امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی۔ اس وقت حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے تو دوسری جانب چند خفیہ گروہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی آڑ میں ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گروہ حکومتی اداروں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطے کا نظام مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دے۔ علاوہ ازیں گزشتہ حکومت کے دور میں ایک ارب روپے میں خریدے گئے اسکینر کے ناکارہ ہونے کی خبر بھی تشویش ناک ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ چار اسکینر میں سے دو پاکستان آئے' بدقسمتی سے درآمد شدہ اسکینرز بارودی مواد کی جانچ پڑتال نہیں کر سکتے۔ حکومت اس واقعے کی جانچ پڑتال کرے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت کو فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ملک کو بدامنی کے ان واقعات کے عذاب سے مستقل نجات دلائی جا سکے۔