راشد لطیف کی جانب سے چیف سلیکٹر کا عہدہ ٹھکرانے پر افسوس ہوا نجم سیٹھی

ہمیں اصولوں پر ڈٹے رہنے والا شخص ہی درکار تھا ان کے ساتھ ہر صورت چلنے کو تیار تھا، نجم سیٹھی


Sports Reporter April 12, 2014
ان کے پلان کو توجہ نہ دیے جانے کا اعتراض سمجھ سے باہر ہے، بورڈ چیئرمین کی گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے راشد لطیف کی طرف سے چیف سلیکٹر کا عہدہ ٹھکرائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سابق کپتان کے بارے میں مثبت اور منفی باتیں بتائی گئیں، بھر بھی میرا خیال تھا کہ ہمیں اصولوں پر ڈٹے رہنے والے عہدیدار چاہئیں، ان کے ساتھ چلنا مشکل ہوتا تو بھی اس کیلیے تیار تھا۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ چیف سلیکٹر کے اہم عہدے کیلیے راشد لطیف کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا تو مجھے ان کے مزاج کے حوالے سے مثبت اور منفی باتیں بتائی گئیں،سابق کپتان سے ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے اینٹی کرپشن یونٹ کا بھی اختیار مانگا، میرا کہنا تھا کہ بطور چیف سلیکٹرانڈر 19سے لے کر اوپر تک تمام پلیئرز کا انتخاب ہی آپ کو کرنا ہے،جو بھی مشکوک کردار کا حامل ہو اس کی چھٹی کرادینا۔

بعد ازاں باہمی رضامندی سے 26فروری کو تیار کی جانے والی پریس ریلیز ان کو پڑھانے کے بعد ہی جاری کی گئی، اس وقت راشد لطیف نے کہا تھا کہ ٹی وی کیساتھ معاہدہ مکمل کرنے کے بعد یکم اپریل کو جوائن کرلیں گے، اس دوران انھوں نے 16مارچ کو اپنا پلان تیار کرکے بھجوایا اور کہا کہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں، میرا خیال تھا کہ ٹوئنٹی 20ورلڈ کپ اور دبئی میٹنگ کی مصروفیات سے فارغ ہوکر ملاقات ہوگی، ہارون رشید نے ان کو اس حوالے سے خط بھی لکھا، تاہم راشد نے 12مارچ کو بھجوایا جانے والا کنٹریکٹ لیٹر ایک ہفتہ قبل واپس بھجوادیا۔

معین خان کو دبئی سے فون کرکے ایک دو روز میں ان سے ملاقات کی تاریخ طے کرنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے بتایا کہ سابق کپتان آنا ہی نہیں چاہتے، پلان کو توجہ نہ دیے جانے کا اعتراض سمجھ سے باہر ہے ، نجم سیٹھی نے کہا کہ راشد لطیف کے ممکنہ سخت فیصلوں کی طرف اشارہ کردیا گیا تھا لیکن میری سوچ تھی کہ ہمیں اصولوں پر ڈٹے رہنے والے عہدیدار ہی چاہئیں، ان کے ساتھ چلنا مشکل تھا تو بھی اس کے لیے تیار تھا، چیف سلیکٹر کا عہدہ بڑی نیک نیتی اور پاکستان کرکٹ کا مفاد مقدم رکھتے ہوئے پیش کیا تھا، ان کی بڑی عزت کرتا ہوں، پی سی بی کی ٹیم میں شامل ہوتے تو ملک کے لیے بہتر ہوتا، ان کے فیصلے پر افسوس ہوا۔