منزل کا حصول نا ممکن تو نہیں

ملک حالت جنگ میں ہے، اس لیے جتنی آج فوج کی حمایت کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی


Editorial April 15, 2014
مذاکرات اچھا عمل ہے مگر اس سے قوم کو نتائج بھی ملنے چاہئیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں ڈیڈلاک ہے اور نہ ہی یہ تعطل کا شکار ہیں، فوج اورحکومت مل کر مذاکرات کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔وزیر داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اپنے30 سالہ سیاسی کیریئر میں جس قدر بہترین سول ملٹری تعلقات اب دیکھے ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھے، ان کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ فوج کے ساتھ تعلقات میں قدرے تناؤ آیا مگر ہم اسے ختم کریں گے، اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے، اس لیے جتنی آج فوج کی حمایت کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ تاہم ان کا یہ بر وقت و خوش آیند اعتراف کہ تناؤ موجود ہے اپنے متن کے حوالے سے ابھی تشنہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ تناؤ اتنی جلد کیوں آیا، اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں، کیا اس کا محور جنرل مشرف کیس ہے ، مختلف کیٹیگریز کے قیدیوں کی رہائی ، وقفہ وار فائر بندی ،حالیہ دہشت گردی کے مسلسل خونیں واقعات سمیت مذاکرات کے اٹھتے بگولے یا بے سمتی ہے ۔

یہ ساری صورتحال اب قوم پر واضح ہونی چاہیے، جب کہ افراط و تفریط روز افزوں ہے۔ ایک طرف سبزی منڈی سانحہ میں اس بات کو فوری طور پر تسلیم کیا گیا کہ طالبان نے اس سے عدم تعلق ظاہر کیا ہے جب کہ بلوچ یونائیٹڈ آرمی کے حوالے سے یہ امکان ظاہر کیا گیا کہ اس کے ڈانڈے کہیں اور ملتے ہیں ۔ پکڑا مگر کوئی بھی نہیں گیا ۔ مزید برآں کوئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی تاحال منظر عام پر نہیں آسکی ۔ ادھر قبائلی علاقوں میں طالبان گروپوں میں ہولناک تصادم کی اطلاعات ہیں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن بھی پھر سے جاری ہے، طالبان مذاکراتی کمیٹی کے اکابرین کا استدلال ہے کہ طالبان گروپوں میں صلح خوش آیند ہے جب کہ سیناریو جس قدر غیر یقینی ہے اس کا خدارا جلد کوئی حل نکلنا چاہیے ۔البتہ یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ وفاقی حکومت کے کچھ وزراء کے حالیہ بیانات پر عسکری قیادت کے تحفظات سامنے آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت میں مشاورت جاری ہے،مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے اعلیٰ قیادت کو پیغام دیا ہے کہ وزرا کو عسکری قیادت اور اداروں کے حوالے سے بیان بازی نہیں کرنی چاہیے۔ میڈیا پر بھی شعلہ نوائی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

یہ وقت سنجیدہ گفتگو اورتفکر آمیز رد عمل کا ہے۔ وزیر داخلہ کے چند جملوں میں ملکی سول وعسکری تعلقات کے بحر بے کنار کو کوزے میں بند کرنے کی سعی اگرچہ خوش آیند ہے تاہم تاریخی اعتبار سے پاکستان کے سیاسی نشیب وفراز اور جمہوریت و آمریت کی آنکھ مچولی میں بنیادی تضاد اور قومی مسئلہ ہمیشہ سویلین اور عسکری تعلقات کے عدم توازن کا رہا ہے کیونکہ ایک مستحکم ملک میں سول و ملٹری تعلقات میں کشمکش ،عدم توازن اور کشیدگی و تناؤ کا پیدا ہونا غیر فطری ہے لیکن جو جمہوری ملک کمزور جمہوری عمل، اداروں کے مابین اختیارات کے واضح تعین، جوابدہی، آئین و قانون کے احترام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو مقدم رکھنے میں بوجوہ کامیاب نہیں ہوتے وہ اکثر اپنا سارا ملبہ ڈکٹیٹرشپ پر گرا دیتے ہیں ، ہماری تاریخ بدقسمتی سے آمریت و جمہوریت کی اسی کشمکش کی ایک ناقابل یقین اور عجیب و غریب تصویر پیش کرتی رہی ہے ، حالانکہ گذشتہ حکومت کا اپنی 5 سالہ آئینی میعاد پوری کرنا جہاں ایک بریک تھرو ہے وہاں 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جس میںسب سے بڑا امتحان طالبان سے نتیجہ خیز مذاکرات ہیں جس کے میکنزم ، نظام الاوقات، بدلتے مقامات اور اہداف ، فائر بندی میں غیر معینہ توسیع کے بجائے چند روزہ ٹائم ٹیبل سے صورتحال خاصی گنجلک ہوگئی ہے۔ اول اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ مذاکرات آخر کب تک جاری رہیں گے، مستقل فائر بندی سے گریز میں کیا منطق مضمر ہے ۔مذاکرات اچھا عمل ہے مگر اس سے قوم کو نتائج بھی ملنے چاہئیں ،مذاکرات میں شفاف ،واضح اور یقینی پیش رفت نظر آنا ناگزیر ہے جس سے قوم کی تشویش ختم ہوگی ۔ سب سے بنیادی ضرورت مذاکرات سے جڑے کثیر جہتی مسائل، تنازعات،اور تصفیہ طلب سیاسی، شرعی امور ، عسکری اور غیر عسکری اسیروں کی رہائی میں تاخیر سے پیدا شدہ بدگمانی اور بے اعتباری ہے جسے سر نہیں اٹھانا چاہیے ۔

اگر اب تک کی بات چیت کے مختلف مراحل مختصر دورانئے کے بجائے جامع مذاکرات کا روپ دھارلیتے ، قیدیوں کی رہائی پر ابہام دور ہوتا، حکومت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کے اعلان کے بعد طالبان بھی اس کی تقلید میں مثبت پیش قدمی کا عندیہ دیتے تو بے یقینی اور ابہام کا خاتمہ ہی ہوجاتا مگر طالبان کمیٹی کے زعما کی جانب سے جو بیانات آرہے ہیں وہ بظاہرامید افزا اور مثبت ہونے کے باوجود کنفیوژن کے خاتمے میں ممد و معاون ثابت نہیں ہو رہے ، مثال کے طور پر طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ ملک میں امن گولی اور بندوق سے نہیں مذاکرات کے ذریعے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کر نے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ ڈیڈ لاک کے بعد حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ پیر سے شروع ہورہا ہے ،مذاکراتی عمل ڈیڈلاک کا شکار نہیں، طالبان گروپس میں اختلافات ختم کرا دیے گئے ہیں، مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں ، پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ حکومت طالبان مذاکرات کی راہ میں سے بڑی رکاوٹ اعتماد کا فقدان ہے، مذاکرات کی کامیابی میں مشکلات زیادہ ہیں۔ طالبان گروپوں میں صلح خوش آیند ہے جب کہ حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہا کہ حکومت کے پاس سیکڑوں قیدی ہیں جن کی رہائی مرحلہ وار ہوگی، طالبان سے آیندہ ملاقات سے قبل حکومت چند قیدی رہا کرے گی تاہم طالبان کو بھی غیر عسکری قیدی رہا کرنے پڑیں گے...عملاً یہ سب طلسم ہوشربا ہے ۔ ادھروزیر داخلہ نے واضح کیا کہ غیرعسکری طالبان فوج کی مرضی کے بغیر رہاکرنے کی خبریں مضحکہ خیز ہیں کیونکہ غیر عسکری طالبان فوج کی قید میں تھے جو فوج کی مشاورت سے رہا کیے گئے۔ عسکری قیدی چھوڑے نہ چھوڑ سکتے ہیں اور خوشخبری دی کہ سبزی منڈی بم دھماکے میں پولیس جلد ملزموں تک پہنچ جائے گی۔

اس انداز نظر پر بھی سیاسی مبصرین اور عسکری قیادت کو غور کرنا چاہیے جس میں چوہدری نثار نے کہا کہ ہم دو ہفتوں میں اگر جنگ کر کے شمالی وزیرستان کو کلئیر کر لیتے تو خودکش حملوں کوکیسے روکتے ۔ بہر کیف حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کے ممکنہ انجام ، سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن کی تاریخ ، مشرف غداری کیس میں حکومت کی مصلحت آمیز حکمت عملی اور طالبان سے امن مذاکرات جن امیدوں کے ساتھ ہو رہے ہیں ان کی سمت کا تعین ضروری ہے ۔ مبصرین کے مطابق فوج کو ادراک ہے کہ مہم جوئی ملکی مسائل کا حل نہیں ، اس صورتحال میں اگر وفاقی حکومت فوج کے ساتھ پختہ طریقے سے چلے تو اسے سویلین ڈھانچے میں لایا جاسکتا ہے۔ تجزیہ کار متفق ہیں کہ جمہوریت کی نشوونما کے لیے فوج کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی و جمہوری رویے وسیع تر ملکی مفاد میں مہم جوئی کی ہر شکل کی نفی کریں ۔ کوئی آرٹیکل 6 اگر آمریت کا راستہ نہیں روک سکتا تو پھر سیاسی ارادے ، قومی عزم اور جمہوری تدبر و رواداری کے ذریعے اس منزل کا حصول ناممکن تو نہیں۔