دہشت گردی ایک عالمی عفریت

دہشت گردی کے فروغ میں اقتصادی اور معاشی مسائل بنیادی وجہ ہیں جسے دہشت پسند اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں


Editorial April 15, 2014
دہشت گردی کے فروغ میں اقتصادی اور معاشی مسائل بنیادی وجہ ہیں جسے دہشت پسند اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں فوٹو: رائٹرز/فائل

عالمی سطح پر دہشت گردی کی لہر نے متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو بے گناہ انسانوں کو بھی نگل رہی ہے۔دوعالمی جنگوں نے نوع انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔دو ممالک کے درمیان دوبدوجنگیں تو نہیں ہو رہیں،لیکن دنیا کے متعدد ممالک میں کسی بھی مسئلے پر اختلاف رائے کا حل بندوق کی زبان میں بات کرنا قرار پایا ہے، مسلح جدوجہد اس وقت ہی کی جاتی ہے جب آپ اپنی رائے کسی دوسرے پر زبردستی مسلط کرنا چاہتے ہیں اور مکالمے سے گریزکرتے ہیں اس طرز عمل نے ان ممالک کے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، جمہوریت کے بجائے آمریت کے خلاف بھی مسلح جنگجو برسرپیکار ہیں اورعدم برداشت اور دوسرے کی رائے کا احترام جیسے جمہوری رویے ناپید ہوچکے ہیں ، شام کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے جہاں حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان ایک طویل جنگ جاری ہے۔

دوسری جانب نائیجریا کے حالات بھی انتہائی تشویش ناک صورتحال اختیارکرچکے ہیں ۔ تازہ ترین واقعے میں نائیجریا میں بم دھماکے کے نتیجے میں 71 افراد جاں بحق اور 124 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،نائیجرین صدر نے الزام عائدکیا ہے کہ بم دھماکے کے پیچھے بوکو حرام کے جنگجو ہیں ۔شام کے شہر حمص میں دوکار بم دھماکوں کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ، حلب میں 16باغی ہلاک اور متعددکے زخمی ہونے سمیت دمشق شہر میں ایک مارٹر حملے میں ایک شخص ہلاک اور 20 زخمیوں سمیت دمشق کے نواح دومہ کے مضافات میں اتوارکو ہونے والی بمباری میں20 ہلاکتیں اس امرکی نشاندہی کرتی ہیں کہ عوام کا جانی و بھاری مالی نقصان ہورہا ہے۔

دہشت گردی کے فروغ میں اقتصادی اور معاشی مسائل بنیادی وجہ ہیں ، جس کو دہشت پسند گروہ اور غیر ریاستی عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔اس لیے جب تک دنیا بھر سے غربت کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد نہیں کی جائے گی اس وقت تک اس عفریت کو قابو میں نہیں لایا جاسکتا۔ اہل پاکستان کو بہرحال اس پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ ملک میں جمہوری حکومت موجود ہے ، جو برداشت ،تحمل، اختلاف رائے کو سننے کا حوصلہ رکھنے کی صورت میں مذاکرات سے مسائل کا حل ڈھونڈ رہی ہے ۔