نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات

سیاسی قوتوں کو بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنے رویوں اور کردار کو درست سمت رکھنا ہو گا


Editorial April 17, 2014
سیاسی قوتوں کو بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنے رویوں اور کردار کو درست سمت رکھنا ہو گا ۔ فوٹو: این این آئی/فائل

ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور جمہوری اداروں کے استحکام کے حوالے سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)' اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتفاق رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال میں طاقتور سیاسی اور غیر سیاسی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے بیاناتی تنائو کے تناظر میں بدھ کو وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی۔

دونوں رہنمائوں نے ملک میں سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا اور سیاسی اداروں کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ' اہم قومی معاملات' ملک میں قیام امن' دہشتگردی' توانائی کے بحران کے خاتمے' جمہوری اداروں' جمہوریت کے استحکام اور تحفظ کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں کی ملاقات سے قبل سابق صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کی ملاقاتوں کا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا تاہم ان سے جو پیغام جاتا ہے وہ اہم ہوتا ہے' موجودہ صورت حال کے تناظر میں یہ ملاقات ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔

ملک میں ایک عرصے بعد جمہوری ادارے بحال ہوئے ہیں ،انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کیے، اس دوران غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے بھی بارہا اس امر کا اظہار کیا گیا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں اور اس کا تحفظ کیا جائے گا۔ گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت سے محروم ہو گئی اور مسلم لیگ ن برسراقتدار آ گئی۔ اقتدار کی منتقلی کا یہ عمل پرامن طریقے سے ہوا اور پہلی بار یہ امید پیدا ہوئی کہ اب ملک میں جمہوریت کا تسلسل بلا روک ٹوک اور بلا خوف و خطر جاری رہے گا اور جمہوری ادارے مستحکم ہوں گے۔اس موقع پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور اب وہ میچورٹی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی قسم کے غیر ضروری ٹکرائو سے گریز کر رہی ہیں تاکہ کسی تیسری قوت کو جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کا موقع نہ مل سکے۔

ماضی میں جب بھی جمہوریت کو خطرہ پیدا ہوا تو اس میں سیاسی جماعتوں کے اپنے رویے اور کردار کا عمل دخل تھا۔ انتخابات ہارنے والی جماعتوں نے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے اور برسراقتدار آنے والی جماعت سے ہر صورت حکومت چھیننے کو اپنا حق سمجھ رکھا تھا' اس مقصد کے لیے انھوں نے حکومت کے لیے مسائل پیدا کرنے اور حکومت ہٹائو تحریکیں چلانے سے بھی گریز نہیں کیا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ناکام سیاستدان اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے آمرانہ قوتوں کو جمہوریت کے خاتمے کی باقاعدہ دعوت دیتے رہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی ایک دوسرے کی مخاصمت میں کچھ ایسا ہی رویہ اپنائے رکھا جس کا خمیازہ انھیں دو دو بار اقتدار سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

پیپلز پارٹی کی گزشتہ سال رخصت ہونے والی حکومت کے دورانیہ میں مسلم لیگ ن نے ماضی کے تلخ واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے، ایک جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور حکومت کے لیے ایسے مسائل پیدا کرنے سے گریز کیا جس سے جمہوری اداروں کے لیے خطرات پیدا ہوں۔ اب جب مسلم لیگ ن برسراقتدار آ چکی ہے تو پیپلز پارٹی بھی ایسی ہی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے جمہوری حکومت سے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں نظریاتی اختلافات کے باوجود جمہوریت کے تحفظ کے نکتہ پر متفق ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ سسٹم کو کسی صورت میں پٹری سے اترنے نہیں دیا جائے۔ آصف زرداری نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ تمام تر صورتحال پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیں۔

سیاسی قوتوں کو بھی جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنے رویوں اور کردار کو درست سمت رکھنا ہو گا اور کوئی ایسا اشارہ نہیں دینا چاہیے جس سے یہ محسوس ہو کہ سیاستدان زبانی طور پر تو جمہوریت کے تحفظ کا اظہار کر رہے ہیں مگر عملی طور پر ان کا کردار جمہوری اصولوں کے برعکس ہے اور وہ اپنے اقدامات کے باعث خود ہی جمہوریت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت کے بل بوتے پر کسی بھی ایسے اقدام سے احتراز برتنا چاہیے جو جمہوری اصولوں کی نفی کرتا ہو۔ قانون سازی یا کوئی بھی آرڈیننس پیش کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری روایات کی پاسداری کرنا ناگزیر ہے۔ موجودہ صورتحال میں پیدا ہونے والی پیچیدگی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی تنائو نہیں' دو وزراء کے بیانات کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جمہوری تسلسل کو رواں دواں رکھنے کے لیے ناگزیر امر ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں' حکومتی وزراء اور دیگر سیاسی رہنمائوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اقدامات سے تنائو کی صورتحال پیدا کرنے سے اعراض برتیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آئین اور قانون سے کوئی ادارہ بالاتر نہیں مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب بھی جمہوری اداروں کو خطرات لاحق ہوئے اس کے بگاڑ کا آغاز سیاسی قوتوں ہی کی جانب سے ہوا۔ سیاستدان صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں' جس سے جمہوریت بار بار پٹڑی سے اترتی رہی۔جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔