یوکرین کے مسئلے پر حیرت انگیز سمجھوتہ

چاروں پارٹیوں نے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا


Editorial April 18, 2014
چاروں پارٹیوں نے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا. فوٹو:فائل

یوکرین کے بحران کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے مغربی ممالک اور روس کے مابین حیرت انگیز طور پر ایک معاہدہ عمل میں آ گیا ہے جسے سابق سوویت ری پبلک کے لیے امید کی ایک کرن قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جینوا میں طے پایا ہے جہاں روسی لیڈر ولادی میر پیوٹن نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اجلاس سے واک آئوٹ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یوکرین میں مداخلت کا دروازہ کھلا رکھیں گے۔ یوکرین نے سولہ سال سے لے کر ساٹھ سال تک کی عمر کے تمام روسی مردوں پر یوکرین کی سرزمین میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاورئوف نے اس اقدام کو انتہائی قابل مذمت قرار دیا تھا۔ تاہم آدھے دن تک جاری رہنے والے مفاہمتی مذاکرات میں روس' یوکرین' امریکا اور یورپی یونین کے مذاکرات کاروں میں اتفاق رائے کا امکان پیدا ہوگیا۔

چاروں پارٹیوں نے تمام شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا جس میں ان مسلح گروہوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا جنہوں نے غیر قانونی طور پر یوکرین کی بہت سی سرکاری عمارات پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔ معاہدے کے بعد لاورئوف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلح گروہوں کو سرکاری عمارتوں پر ناجائز قبضہ چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ اس حوالے سے امریکا یورپی یونین یوکرین اور روس میں سمجھوتہ عمل میں آ گیا ہے ۔ امریکا اور یوکرین نے روس پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ مسلح گروہوں کی حمایت اور پشت پناہی کر رہا ہے جنہوں نے پولیس تھانوں اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے لیکن ماسکو نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

سرگئی لاورؤف نے کہا ہے کہ روس کا یوکرین میں فوجی مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں حالانکہ قبل ازیں اس حوالے سے ان کے بیانات بہت سخت تھے۔ مغربی طاقتوں کے جہاں مفادات ہوتے ہیں'وہاں وہ بڑی آسانی سے معاہدات کرلیتی ہیں لیکن جہاں صورت حال مختلف ہو' وہاں قتل وغارت روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ شام کا بحران اس کی مثال ہے' امریکا' مغربی یورپ اور روس اس ملک میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے امن قائم نہیں ہونے دے رہے۔ عالمی طاقتوں کو یہ دہرا معیار ترک کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ پسماندہ ممالک کی قیادت کو کسی کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔