یمن میں امریکی ڈرون حملہ

یمنی صدر کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ حملہ یمنی حکومت کے ایماء پر کیا گیا ...


Editorial April 20, 2014
یمنی صدر کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ حملہ یمنی حکومت کے ایماء پر کیا گیا. فوٹو:فائل

یمن میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاکت کا شکار بننے والوں میں القاعدہ کے پندرہ ارکان بھی شامل ہیں تاہم ذرایع ابلاغ میں جاری ہونے والی اس خبر میں اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے کہ ہزاروں فٹ کی بلندی سے چلائے جانے والے ڈرونی میزائل کو کیسے پتہ چلا کہ ہلاک ہونے والے بیسیوں افراد میں ایک درجن سے زیادہ کا تعلق القاعدہ تنظیم کے ساتھ ہے جس کے خلاف امریکا دہشت گردی کی عالمی جنگ میں مصروف ہے جب کہ اس کے برعکس شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف باغیانہ سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کو امریکا جدید اسلحہ اور ڈالروں سے امداد د ے رہا ہے جن میں کہ مبینہ طور پر القاعدہ جنگجووں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے حالانکہ بادی النظر میں امریکا کی اس دوغلی پالیسی کی سمجھ نہیں آتی۔

تازہ ڈرون حملہ میڈیا کے مطابق یمن کے وسطی صوبے البیضا میں کیا گیا جہاں امریکی ڈرون طیارے سے مشتبہ القاعدہ ارکان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو جنوبی صوبہ شبوا کی طرف جا رہی تھی۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق حملے کے نتیجے میں گاڑی میں سوار القاعدہ کے 15 کارکن مارے گئے' جب کہ قریب سے گزرنے والی ایک سویلین گاڑی بھی ڈرون میزائیل کی زد میں آ گئی جس میں سوار 3 شہری بھی مارے گئے۔ یمن کے صدر منصور ہادی نے کہا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے القاعدہ کی کارروائیوں میں کافی رکاوٹ آئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جن کی ہم معافی چاہتے ہیں۔

یمنی صدر کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ حملہ یمنی حکومت کے ایماء پر کیا گیا۔ واضح رہے امریکا اپنے مطلوب ملزمان کی ہلاکت کے لیے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے کرتا ہے۔ جب کہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ڈرون حملوں کی مذمت اور مخالفت کرتی ہیں کیونکہ ان حملوں میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔دنیا بھر میں ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا پر تنقید ہوتی ہے لیکن اقوام متحدہ نے اس بارے میں کبھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا' یہی وجہ ہے کہ امریکا بلا روک ٹوک ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اقوام عالم کو اس حوالے سے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تاکہ ڈرون حملے بند ہو سکیں۔