سینیٹ کمیٹی کی یوٹیوب کھولنے کی تجویز

یوٹیوب ایک نہایت وسیع و عریض ملاقات کے خزانے کا نام ہے...


Editorial April 22, 2014
یو ٹیوب ایک نہایت وسیع و عریض ملاقات کے خزانے کا نام ہے۔ فوٹو؛فائل

ISLAMABAD: سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اگلے روز ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ ''یوٹیوب'' پر عائد پابندی ہٹانے سے متعلق متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی ہے جس میں کمیٹی نے حکومت کو تجویز دی کہ یوٹیوب پر پابندی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوٹیوب پر پابندی کا معاملہ سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔ یو ٹیوب ایک نہایت وسیع و عریض ملاقات کے خزانے کا نام ہے جس میں سیاسی' عوامی اور علمی معلومات تک باآسانی رسائی ہے۔ بہت سی چیزوں کے ساتھ بر صغیر کی موویز کی تاریخ کا تقریباً تمام ریکارڈ موجود ہے۔

یوں یوٹیوب نے ایک بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا تھا اور باذوق افراد کو اس میں ایسے ایسے گوہر ہائے نایاب بس ایک کی کلک سے حاصل ہو جاتے تھے کہ طبیعت باغ باغ ہو جاتی مگر ان کی ایک بد احتیاطی کے باعث جب اس پر ایک توہین آمیز مواد جاری کر دیا گیا تو اس پر پوری سروس ہی منسوخ کر دی گئی حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے مکروہ مواد کو سنسر کر دیا جاتا نہ کہ اس قدر شاندار سروس کو ہی سرے سے بند کر دیا جاتا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یوٹیوب کھولنے کے بیانات حکومت کے معزز وزرائے کرام بھی وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہے ہیں مگر ان بیانات پر اب تک عمل نہیں ہو سکا۔ اب سینیٹ کمیٹی نے ایک قرارداد کے ذریعے یوٹیوب کے کھولنے کا جو مطالبہ کیا ہے تو اس پر عملدرآمد کی سبیل بھی کی جانی چاہیے۔

سینیٹ کمیٹی نے خواتین سے متعلق بڑھتے ہوئے جرائم اور کاروکاری کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے وزارت قانون و انصاف اور انسانی حقوق سے مزید تجاویز بھی طلب کر لی ہیں، زیادتی واقعات پر جرگے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی اور مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی فراہم کرنیکی ہدایت کی، بہر حال سینیٹ کی برائے انسانی حقوق کا یہ اجلاس خاصا اہم ہے' اس کمیٹی نے جن معاملات کی نشاندہی کی ہے' وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں' ہماری یہی بدقسمتی ہے کہ سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی کی کمیٹیاں' وہ جو مثبت نوعیت کی قرار دادیں پاس کرتی ہیں' ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا' اب اس کلچر میں تبدیلی آنی چاہیے' سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جو تجاویز دی ہیں' ان پر غور ہونا چاہیے اور پھر ان پر عملدرآمد کی کوئی صورت نکالی جانی چاہیے۔