معاشی ثمرات …عوام منتظر

غیر ملکی قرضوں اور معاشی تنگدستی سے نجات کے لیے حکمراں کون سے راستے پر چلنا چاہتے ہیں....


Editorial April 23, 2014
غیر ملکی قرضوں اور معاشی تنگدستی سے نجات کے لیے حکمراں کون سے راستے پر چلنا چاہتے ہیں. فوٹو: پی آئی ڈی/فائل

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے حکومت کوسفارش کی ہے کہ مزید غیرملکی قرضے نہ لیے جائیں اورکہا کہ حکومت جتنے غیرملکی قرضے لے گی عالمی مالیاتی اداروں کی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اتنی ہی زیادہ بڑھے گی ، ادھرسپریم کورٹ نے بنیادی انسانی ضروریات اور اخراجات کے بارے میں حکومتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملک میں غربت اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جس کا حل بھی نکالنا چاہیے ، شاید آئین میں درج زندگی اور انسانی عظمت کا حق ریاست کی کثیر آبادی کو دستیاب نہیں ۔ یہ وہ فلک شگاف زمینی ، مالیاتی اور معاشی حقائق ہیں جن کے تلخ اور اذیت ناک تجربات اور نتائج نے عوام کی زندگیوں کو روگ لگا دیا ہے اور وہ جمہوری ثمرات کے ٹریکل ڈائون کے انتظار میں یوں سسک رہے ہیں کہ ان میں زندگی کی بنیادی ضروری اشیا خریدنے کی بھی طاقت نہیں رہی۔

غیر ملکی قرضوں اور معاشی تنگدستی سے نجات کے لیے حکمراں کون سے راستے پر چلنا چاہتے ہیں مستقبل کا دارومدار اسی ایک نقطے پر ہوگا۔آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے آبزرویشن دی کہ آرٹیکل9کے تحت زندگی کے تحفظ اور آرٹیکل14کے تحت استحصال سے پاک انسانی وقار کے آئینی حق سے ملک کی بیشتر آبادی محروم ہے، عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 38 کی ذیلی شق ڈی کے تحت عوام کی فلاح و بہبود ریاست کی ذمے داری ہے، یہ ذمے داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ عدالتی ریمارکس چشم کشا ہیں کہ بھوکا آدمی صرف پیٹ کے بارے میں سوچتا ہے۔

کیا حکمرانوں کے پاس اتنا وقت ہے کہ عدلیہ کے اس سوال کا تسلی بخش جواب دیں کہ '' کیا ہر پاکستانی شہری کو بنیادی انسانی حقوق دیے جا رہے ہیں ، ان کے کھانے پینے، تعلیم و صحت اور سر پر چھت ہونے سمیت بنیادی لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں؟'' بلاشبہ یہ ملکی مضبوط معاشی اور سماجی نظام کے ڈھکوسلے اور خوشنما لفظوں کی بازیگری پر گہری چوٹ ہے ۔ منگل کو عجیب صورتحال پیدا ہوئی جب ڈپٹی اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں نے آٹے کی قیمت اور دستیابی جب کہ نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی کمشنر نے اوسط اخراجات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مضحکہ خیز اور قابل افسوس انکشافات کے مطابق میاں بیوی اور دو بچوں پر مشتمل خاندان کے کھانے پینے کے اوسط اخراجات5530 روپے ہیں، دودھ پندرہ روپے کلو، چالیس کلو آٹا 1680روپے اور پانچ کلو چاول تین سو روپے کلو میں دستیاب ہیں۔

حیراں ہیں دل کو روئیں کہ پیٹیں جگر کو ہم ! چنانچہ عدالت نے اس آبزرویشن کے ساتھ رپورٹ مسترد کردی کہ اعداد و شمار بہت پرانے ہیں ۔واقعتاً پرانے ہی نہیں بلکہ بے نیاز افسر شاہی کے تجاہل عارفانہ کے مظہر بھی ہیں۔صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں گندم کی قیمتوں میں موجود تفاوت پر بھی عدالت نے حیرانی کا اظہار کیا ، اور متعلقہ حکام کے ضمیر پر چپت رسید کرتے ہوئے بتایا کہ بہاولپور میں20 کلو آٹے کا تھیلا 720 جب کہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے گیارہ سو روپے کا ہے جب کہ خیبرپختونخوا حکومت کی رپورٹ میں آٹے کی عدم دستیابی کا بھی ذکر موجود تھا ۔پٹیشنر کے وکیل نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں لوگ آٹے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ریسرچ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 48اعشاریہ 6فیصد اور 29فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ عدلیہ نے قرار دیا کہ آٹا ایران اور افغانستان اسمگل ہو جانا انتظامی نااہلیت ہے۔

سوال یہ ہے کہ عدلیہ نے جن معاشی محرومیوں کا حوالہ دیا ہے ان کے ازالے کی کبھی کسی حکومت نے دل و جان سے کوشش نہیں کی، ظاہر ہے ملک میں خط افلاس سے نیچے دھڑا دھڑ گرنے والے افتادگان خاک کی تعداد میں خود حکومتی سروے کے مطابق اضافہ ہوا ہے اور بیروزگاری اور افلاس کے ستائے ہوئے خاندان خود کشی پر مجبور ہو رہے ہیں ، والدین اپنے بچوں کو فروخت کرنے یا انھیں گلا گھونٹ کر ہلاک کرنے کی لرزہ خیز وارداتوںکا ارتکاب کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں غربت ،مہنگائی ، عدم مساوات، ناانصافی ، بدعنوانی اور ہوس زر کی اندھی دوڑکے باعث ملک بھر میں بدامنی ، بہیمانہ جرائم ، انتہا پسندی اور اضطراب کے بگولے اٹھ رہے ہیں ۔ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اسٹرکچرل اصلاحات اور موجودہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جی ڈی پی گروتھ ریٹ اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر اوپر جا رہے ہیں اور افراط زر نیچے جا رہا ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کے مثبت اثرات کا عوامی زندگی پر منعکس ہونا شرط ہے۔ غریب خاندان 6000 روپے میں ماہانہ اخراجات پورے نہیں کرسکتا ۔ اس پر پوری قوم شرط لگانے پر تیار ہوگی ۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت ٹیکس کے شعبے میں باقاعدگی لانے کے ایک منصوبے کے تحت 550 مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر سے رعایتی نرخ فراہم کرنے کی سہولت واپس لینے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جب کہ اس وقت 86 فیصد روایتی محصولات کا طریق کار ایس آراوزکے تحت ہی چلایا جارہا ہے۔ جب کہ کل برآمدات کا 46فیصد حصہ بھی انھی کے دست نگر ہے چنانچہ کسی بھی نئے تاجر کے لیے میدان میں موجود گھاگ کھلاڑیوں کا مقابلہ کرنا عملاً ناممکن ہے۔

مذکورہ ایس آراوز کے تحت جن اشیا کے نرخوں پر رعایت دی جاتی ہے ان میں ایئرکنڈیشنر،ڈیپ فریزر، واشنگ مشین، اسٹیشنری آئٹم، چمڑے کی مصنوعات، سرامکس، سی این جی کٹس، دفاعی سازوسامان کا خام مال، الیکٹرونک بلب، تازہ پھل، گندم، گنا، ہائی اسپیڈ ڈیزل، پولٹری سیکٹر کا سامان، خام لوہا، نٹنگ مشین، کیمیکلز، سونا، چاندی، پلاٹینم، سرجیکل گڈز، ایئرکرافٹ انجن، ایمبولینس، ڈمپرٹرک، ٹریکٹر، یارن مصنوعات، خام پام آئل، ادویہ سازی کا خام مال شامل ہے ۔ سیاست اگر امکانات کا نام ہے تو معاشی ثمرات کی نوید عوام کا مقدر بننا چاہیے ۔ ارباب اختیار ایسے قابل عمل معاشی اور اقتصادی اقدامات کریں جو عام آدمی کو چلتے پھرتے گلی کوچوں ، اپنے اطراف کی مارکیٹوں، بازاروں، تجارتی مراکز، شاپنگ مالز ، بس اسٹاپوں ، پتھارے اور ٹھیلوں پر نظر آئیں ۔وعدوں اور دعوؤں پر لوگ کتنے برس اور جئیں گے۔