کراچی میں پرتشدد واقعات

کراچی میں جرائم پیشہ گروہوں کی کمر پوری طرح توڑی نہیں جا سکی ...


Editorial/editorial April 24, 2014
کراچی میں جرائم پیشہ گروہوں کی کمر پوری طرح توڑی نہیں جا سکی فوٹو:فائل

مِنی پاکستان میں فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں11 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ابھی اپنے پیاروں کی لاشوں پر غمزدہ خاندانوں کے آنسو بھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ اسی شہر قائد میں ایک اور پولیس افسر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ مرحوم ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل کے تین ماہ بعد یہ دوسرے ہائی پروفائل پولیس افسر کی ٹارگٹ کلنگ ہے ۔ مسئلہ کی سنگینی صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ لاقانونیت، بدامنی ، تشدد اور قتل و انسانیت سوز فریب کاری کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے منظم نیٹ ورک ملک بھر میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کرنے کی نہ ختم ہونے والی وارداتوں میں مصروف ہیں۔ یہ صورت حال یقینی طور پر سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

کراچی میں جرائم پیشہ گروہوں کی کمر پوری طرح توڑی نہیں جا سکی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بدھ کو موچکو تھانہ کے ایس ایچ او شفیق تنولی پر اچانک خود کش حملہ کیا گیا جس میں تنولی سمیت 4 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے ۔ وہ پرانی سبزی منڈی کے قریب اپنے گھر سے متصل دکان پر دوستوں کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ خود کش حملہ آور نے اپنا کام کر دکھایا۔یہ بھی اطلاع ہے کہ مقتول تھانیدارکو معطل بھی کیا گیا تھا۔ سینئر پولیس افسران کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے تاہم ابھی تک کسی تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ بہرحال یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ حکومت کو کراچی میں قیام امن کے لیے پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو مزید وسائل فراہم کرنے چاہئیں تاکہ وہ جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کر سکیں۔