اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس

پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے وطن عزیز کی ضروریات اور اس کے ماحول کو مدنظر رکھ کر معاشی پالیسی..۔


Editorial April 27, 2014
پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے وطن عزیز کی ضروریات اور اس کے ماحول کو مدنظر رکھ کر معاشی پالیسی تشکیل نہیں دی۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں آلو کی قیمت میں کمی لانے کے لیے صفر کسٹمز ڈیوٹی پر آلو درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی البتہ آلو کی برآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔

واضح رہے آلو دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سبزی ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک میں تو اس کے استعمال میں ہزاروں لاکھوں گنا اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ وہ لاکھوں کروڑوں ٹن آلو کے چپس بنا کر اسے دنیا بھر میں فروخت کرتے ہیں اور اربوں ڈالر کا منافع کماتے ہیں۔ ایک آلو جو انھیں بھاری تھوک میں خریدنے کی وجہ سے گھر میں ایک پیسے کا پڑتا ہو اس کے چپس بنا کر ایک پیکٹ سو روپے میں بیچتے ہیں اور محیر العقول منافع کماتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز میں بد قسمتی سے آلو کی پوری پیداوار ہی نہیں لی جا رہی اور الٹا اڑوس پڑوس سے منگوانا پڑتا ہے۔

ایک زمانے میں شاید وطن عزیز سے آلو کی برآمد کا کوئی سلسلہ نہیں تھا ورنہ خاصہ زر مبادلہ کمایا جا سکتا تھا۔ یہ در اصل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مسئلہ ہے جس میں ہمارا ملک چھیاسٹھ سال گزرنے اے باوجود ابھی تک پرائمری پاس نہیں کر سکا۔ ای سی سی کے اجلاس میں آلو سستا کرنے کے علاوہ مزید کئی اہم فیصلے بھی کیے جن میں پاکستان اسٹیل ملز کے لیے18.5 ارب روپے کے ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری کل فیصلہ بھی شامل ہے۔ تاہم ملکی مصنوعات پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ اور آلو کی درآمد پر عائد تمام ٹیکس ختم کرنے کی سمری ایک مرتبہ پھر موخر کر دی گئی اور اس حوالے سے مزید جائزہ لے کر سفارشات ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں پانچ نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فنڈز کی قلت کے باعث اس وقت پاکستان اسٹیل ملز صرف 3 سے 6 فیصد پیداواری صلاحیت پر چل رہی ہے' پاکستان اسٹیل ملز کے ری اسٹرکچرنگ پلان کے حوالے سے وزارت صنعت و پیداوار، پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ اور نجکاری کمیشن ایک صفحہ پر ہیں یعنی ہم خیال ہیں اور کسی قسم کا اختلاف رائے موجود نہیں' مذکورہ ری اسٹرکچرنگ پلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان اسٹیل ملز اپنے ذمے واجب الادا تمام واجبات کی ادائیگی کے قابل ہو جائے گی بلکہ آپریشنل صلاحیت 77 فیصد تک لے جانے میں بھی کامیاب ہو جائے گی جس کے ذریعے جنوری 2015 ء سے پاکستان اسٹیل ملز 3 کروڑ 80 لاکھ روپے ماہانہ کے حساب سے منافع کمانا شروع کر دے گی۔

ای سی سی نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بغیر براہ راست مقامی شوگر ملوں سے چینی خریدنے کی بھی اجازت دیدی ہے تاہم ٹریڈنگ کارپوریشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسقتبل میں اپنے پچاس ہزار ٹن کے اسٹرٹیجک ذخائر کو برقرار رکھے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے26 ہزار میٹرک ٹن گندم ورلڈ فوڈ پروگرام کو عطیہ کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے' یہ گندم خیبر پختونخوا اور فاٹا کے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔

پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے وطن عزیز کی ضروریات اور اس کے ماحول کو مدنظر رکھ کر معاشی پالیسی تشکیل نہیں دی۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کبھی آلو مہنگا ہوتا ہے اور کبھی کوئی دوسری سبزی۔ حالت یہ ہے کہ سبزیاں اور پھل غیرممالک سے منگوائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں جتنا مربوط نہری نظام ہے اور جتنی زرخیز زمین ہے، اس کے ہوتے ہوئے اسے اناج' دودھ اور گوشت کا گھر ہونا چاہیے۔ بھارت میں مشرقی پنجاب اور ہریانہ پورے بھارت کی ضرورت سے زیادہ گندم اور دیگر اجناس پیدا کرتے ہیں۔ وہاں فی ایکڑ پیداوار بھی ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان میں زراعت کے زوال کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے معاشی حکمت کاروں نے کبھی زراعت کو ترقی دینے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اگلے روز تجارتی راہداری کے مربوط نظام سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کو خیرباد کہہ کر کم ازکم 50 سال آگے کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ ان کی بات درست ہے کہ اب اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو ہمیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کوترک کرنا ہو گا۔ ملک کی زراعت پر توجہ دینا ہو گی۔ اگر ہم زراعت پر توجہ دیں تو چند برسوں میں یہاں سبز انقلاب آ سکتا ہے اور ہم فوڈآئٹمز کے ذریعے ہی اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں لیکن اس کے لیے صدق دل سے کام کرنے اور ذہانت کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔