پی او اے کے متحارب دھڑوں میں مصالحت کی کوشش ناکام

دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور گزشتہ روز دونوں دھڑوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے


Sports Reporter April 27, 2014
پاکستان کی نمائندہ ایسوسی ایشن ہونے کی وجہ سے ہم ایشین اورکامن ویلتھ گیمزمیں ملک کی نمائندگی کریں گے، عارف حسن فوٹو: فائل

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے دونوں دھڑے ماضی کے موقف پر قائم ہیں جس کے بعد مصالحت کی کوششیں دم توڑتی نظر آتی ہیں۔

جنرل (ر) عارف حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی نمائندہ ایسوسی ایشن ہونے کی وجہ سے ہم ایشین اورکامن ویلتھ گیمزمیں ملک کی نمائندگی کریں گے، جنرل(ر) اکرم ساہی گروپ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے لئے حکومتی این او سی کی شرط پر لازمی عمل کرایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے پاکستان میں اولمپک کے حوالے سے تنازع کو ختم کر نے کے لئے دی جانے والی بار بار کی تنبیہ کے باوجود ملک میں اس بحران کے حل کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے، آئی او سی نے جولائی تک اس مسئلے کو باہمی طور پر حل کرنے کی آخری ڈیڈ لائن دی ہے۔ گزشتہ روز پی او اے کے دونوں اجلاس لاہور میں ہوا، عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پی او اے کا اجلاس مقامی ہوٹل میں ہوا جبکہ جنرل محمد اکرم ساہی نے اولمپک ہاؤس میں اجلاس میں صدارت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ریٹائرجنرل عارف حسن نے کہا کہ ایشین گیمز میں پاکستان کا 218 رکنی دستہ شرکت کرے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان فٹبال ،ٹینس ،کبڈی اور ایتھلیٹکس سمیت 22 ایونٹس میں حصہ لے گا جبکہ ایشین گیمز کے لئے ہاکی فیڈریشن نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

عارف حسن کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا53 رکنی دستہ شرکت کرےگا اگر قومی کھیل ہاکی کو ایشین گیمز میں نہ بھیجا گیا تو ملک کا نقصان ہوگا۔ادھر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں پی اواے کے آئین میں متفقہ طور پر ترمیم کرتے ہو ئے صدر ،سیکریٹری اور خازن کے لئے2 ٹرم کی شر ط عائد کر تے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے لئے حکومتی این او سی کی شرط پر لازمی عمل کروایا جائے۔ پی اواے کے معاملات چلانے کے لئے مختلف فیڈریشنز کے عہدیداروں کی طرف سے پی اواے کو 20لاکھ روپے سے زائدکی رقم دی گئی۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جنرل کونسل کا اجلاس صدر پی او اے میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی زیر صدارت گذشتہ روز اولمپک ہاؤس لاہور میںہونے والے اجلاس میں پی اواے سے ملحقہ تمام قومی فیڈریشنز صوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز جن میںاسلام آباد ،فاٹا ،گلگت بلتستان ،آزاد جموں و کشمیر ، پاکستان آرمی ، پاکستان نیوی، پاکستان ائیر فورس ،واپٖڈا ،ریلوے ،پولیس ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں نے حصہ لیا،اجلاس میں غلام علی کے والد اور پاکستان اسپورٹس بورڈکے سابق ڈائریکٹر جنرل امیر حمزہ گیلانی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

اجلاس کے آغا ز میں گذشتہ جنرل کونسل می ںہونے والے فیصلوں کی توثیق کی گئی جس کے بعد صدر پی اواے منیجر جنرل (ر)محمد اکرم ساہی نے تمام اراکین کو اجلاس میں خوش آمدید کہا ،سیکریٹری پی اواے خواجہ فاروق سعید نے پورے سال کی رپورٹ پیش کی ۔اجلاس میں انٹر نیشنل المپک کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں پی اواے کے آئین کے آرٹیکل 9میں تر میم کرتے ہوئے صدر ،سیکریٹری اور خازن کے عہدوں پر دوٹرم کی شر ط شامل کر نے تجویز دی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔اجلاس میں پاکستان آرچی فیڈریشن ،پاکستان چیس (شطرنج ) فیڈریشن اور تھرو بال فیڈریشن کے پی او اے کے ساتھ الحاق کی منظوری دیتے ہو ئے پاکستان ٹینٹ پیکینگ فیڈریشن کی رکنیت بحال کی گئی ۔اجلاس کے دوران سندھ اولمپک ایسوسی ایشن نے نیشنل بیچ گیمز کر اچی میں کروانے کی تجویز دی اس کے ساتھ ساتھ آئندہ قومی کھیلوں کے لئے پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن،اسلام آباد اولمپک ایسوسی ایشن اور بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن نے دلچسپی ظاہر کی اس سلسلے میں صدر پی اواے تمام معاملات کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ کریں گے ۔

اجلا س کے دوران مختلف فیڈریشنز کے عہدیداروں نے پی اواے کے معاملات چلانے کے لئے اپنی طرف سے 20لاکھ روپے سے زائد کی رقم دی ۔اجلاس کے اختتام پر متقفہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ ایشین گیمزورلڈ یوتھ گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹس کو لازمی طور پر شرکت کرنا چاہیے کیوں کہ ملک کے لئے اعزاز کی بات ہے مگر ان کھیلوں میں حصہ لینے کے لئے حکومت کو پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کے وقار اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے قرار داد میں کہا گیا ہے کہ حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ ملک میں میجر جنرل (ر)محمد اکرم ساہی کی سربراہی میں کام کر نے والی اولمپک ایسوسی ایشن کے علاوہ کوئی دوسری پی اواے نہیں ہے اس کے باوجود جنرل عارف حسن خود کو پی او اے کا صدرکہہ رہے ہیں۔