حکومت اور طالبان مذاکرات نتیجہ خیز بنائیں

کچھ عرصہ سکون رہنے کے بعد سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے


Editorial April 29, 2014
پاکستان کو مستقبل میں پیش آنے والے اندرونی اور بیرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کر لینا چاہیے۔ فوٹو: فائل

شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر اتوار کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک فوجی گاڑی تباہ ہوگئی جس سے پاک فوج کے ایک افسر سمیت تین فوجی شہید اور تین زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور قریبی پاک فضائیہ کی بیس پر راکٹ حملہ کیا گیا، دو راکٹ رن وے اورقریبی علاقے میں گرے۔ جس کے بعد ہوائی اڈے کو مسافروں سے خالی کرا کے اسے سیل کر دیا گیا۔ ذرایع کے مطابق دھماکے کے وقت رن وے پر دو جہاز موجود تھے جو بال بال بچ گئے۔

کچھ عرصہ سکون رہنے کے بعد سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ ایک جانب حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کے جلد شروع ہونے کی نوید سنائی جا رہی ہے تو دوسری جانب امن و امان کو خراب کرنے والے افسوسناک واقعات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعرات کو طالبان نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ 40 روزہ جنگ بندی کے جواب میں حکومت کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا جب کہ وفاقی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا اعلان کر رہی ہے ۔ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کافی پیچیدہ اور گمبھیر نظر آتی ہے۔ گومگو کی اس کیفیت میں مذاکرات اور امن و امان کے حوالے سے صورت حال واضح نہیں ہو رہی کہ اب کیا ہوگا۔ سیکیورٹی ذرایع کے مطابق اسلام آباد سبزی منڈی بم دھماکے اور پشاور و چار سدہ میں پولیس پر ہونے والے حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز کے جیٹ طیاروں نے جمعرات کی صبح خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور دور افتادہ علاقہ تیراہ میں بمباری کی تھی جس میں 37 شدت پسندوں کی ہلاکت اور 14کے زخمی ہونے جب کہ ان کے دس سے زائد ٹھکانے بھی تباہ ہونے کی اطلاع دی گئی۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سیکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف یہ پہلی فضائی کارروائی تھی۔ دریں اثناء کراچی میں پیر کو اورنگی ٹاؤن میں فرنٹیئر موڑ پر جامع مسجد طاہریہ کے قریب دھماکے سے چار بچے جاں بحق اور 16 زخمی ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور بم دھماکوں کے سلسلے کا دوبارہ شروع ہونا افسوسناک امر ہے۔ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد امن و امان کی صورت حال میں جو بہتری آئی تھی اور حکومت ، طالبان کے درمیان مذاکرات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ملک میں بدامنی کے واقعات کا افسوس ناک سلسلہ ختم ہوجائے گا اور امن پھر سے لوٹ آئے گا لیکن افسوس حالیہ رونما ہونے والے حملوں کے بعد یہ امید مدھم پڑتی نظر آ رہی ہے۔ علاوہ ازیں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ طالبان کے خلاف آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان موجود اس پیچیدہ اور مشکل صورت حال میں طالبان کمیٹی ہی وہ واحد علامت ہے جو مذاکراتی عمل کی کامیابی کی امید دلا رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر و طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک بار پھر یہ امید دلائی ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان ایک دو روز میں براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند دنوں کے اندر دونوں طرف سے جنگ بندی میں توسیع ہوگی جب کہ دوسری جانب طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اپنا یہ موقف بیان کیا کہ فریقین کی جانب سے تعطل کے باعث اب تک حقیقی مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔ انھوں نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوج اور طالبان سب کو اخلاص کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے بڑھانا ہو گا۔ حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور اسے جلد از جلد کامیاب بنانے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی اتنا ہی اس کے سبوتاژ ہونے کا خدشہ بڑھتا چلا جائے گا اور خدشہ ہے کہ اس دوران افسوسناک حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہے جس سے بدگمانی اور بد اعتمادی کی فضا مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔دوسری جانب ایسی قوتیں بھی موجود ہیں جو حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ اس خطے میں بہت سی سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت میں انتخابات کے بعد بی جے پی کی حکومت آنے والی ہے جو پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے دوسری جانب افغانستان میں بھی انتخابی عمل کے ذریعے نئی حکومت برسراقتدار آنے والی ہے۔

اس لیے پاکستان کو مستقبل میں پیش آنے والے اندرونی اور بیرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کر لینا چاہیے۔ کوئی بھی روایتی لاپروائی اور تساہل پسندی کا رویہ آنے والے دنوں میں مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے حکومت اور طالبان دونوں فریقین کو مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کر لینا چاہیے۔ یہ بھی مشاہدے میں آ رہا ہے کہ جب بھی مذاکرات کی بات چلتی ہے کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس سے مذاکراتی عمل کو دھچکا پہنچتا ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہوئے کئی ماہ ہو چکے ہیں مگر بعض حلقوں کی جانب سے ابھی تک یہ کہا جا رہا ہے کہ حقیقی مذاکرات ابھی شروع نہیں ہوئے۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں اور فوجی اداروں پر حملے نہ کریں۔ پروفیسر ابراہیم کا طالبان سے حملے نہ کرنے کا مطالبہ بالکل درست ہے کیونکہ جب طالبان کی طرف سے حملہ کیا جاتا ہے تو جواب میں سیکیورٹی فورسز بھی حملہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس طرح مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا ہے۔ دونوں فریقین کو مذاکراتی عمل کامیاب بنانے کے لیے خلوص نیت سے کوشش کرنا ہو گی۔