ٹیم کا کھویا ’’وقار‘‘ واپس لانے کی کوشش شروع

چند برس قبل اختلافات کے سبب عہدہ چھوڑنے والے وقاریونس کو ایک بار پھر چیف کوچ بنانے کی تیاریاں جاری


Sports Reporter May 01, 2014
ذمہ داری ملی تو تفصیلی منصوبہ سامنے لائوں گا، کسی سے ماضی میں اختلاف تھا نہ اب ہے، وقار یونس۔ فوٹو: آن لائن/فائل

قومی کرکٹ ٹیم کاکھویا ''وقار'' واپس لانے کی کوشش شروع کر دی گئی، چند برس قبل اختلافات کے سبب عہدہ چھوڑنے والے سابق کپتان وقاریونس کو ایک بار پھر چیف کوچ بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں مایوس کن پیش کرنے والے گرین شرٹس کی انہی کے ذریعے قسمت بدلی جائیگی،سابق پیسر نے گذشتہ روز چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے ملاقات میں اپنی شرائط پیش کر دیں، ان کا کہنا ہے کہ گرین شرٹس کی رہنمائی کا خواہشمند ہوں، ذمہ داری ملی تو اپنا تفصیلی منصوبہ سب کے سامنے لائوں گا، انھوں نے کہا کہ میرا کسی سے ماضی میں کوئی اختلاف تھا اور نہ اب ہے، البتہ گھر میں بھی کچھ معمولی قسم کی تلخیاں تو ہو ہی جاتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ڈیو واٹمور کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے پاس مستقل بنیادوں پر کوئی کوچ نہیں ہے، سابق کپتان معین خان نے بنگلہ دیش میں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کے دوران فرائض انجام دیے لیکن ٹیم غیرمعمولی پرفارم نہ کر سکی۔

مختصر طرز کے ورلڈ ایونٹ میں تو محمد حفیظ الیون پہلے ہی رائونڈ میں باہر ہو گئی جس کے بعد بورڈ نے معین خان کے معاہدے میں مزید توسیع نہ کی، بعد ازاں ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ، اسپن بولنگ کنسلٹنٹ،اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ اور اسپورٹس فزیو تھراپسٹ کا تقرر کرنے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چیف سلیکٹر معین خان، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ انتخاب عالم اور ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ ہارون رشید کو شامل کیا گیا۔ اس حوالے سے اشتہار جاری کیا گیا اور درخواست دینے کی آخری تاریخ5 مئی ہے۔ ہیڈ کوچ کیلیے وقار یونس اور ثقلین مشتاق نے اپلائی کیا مگر پی سی بی سابق پیسر کے حق میں ہے،گذشتہ روز چیئرمین نجم سیٹھی اور وقار یونس کے درمیان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران سابق کپتان نے جہاں بورڈ کے سربراہ کو کوچنگ کے بارے میں اپنا تفصیلی پلان دیا وہیں چند شرائط بھی پیش کیں، ماضی کے تلخ تجربے کو دیکھتے ہوئے وہ اس بار بااختیار کوچ بننا چاہتے ہیں، ذرائع نے دعویٰ کیاکہ چیئرمین بورڈ نے بھی سابق پیسر کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کی جائیگا،انھیں پلان پر عمل درآمد کا مکمل موقع فراہم کیا جائیگا۔ پی سی بی وقار یونس کو قومی ٹیم کا چیف کوچ بنانے کیلیے تیار ہے جس کا اعلان آئندہ چند روز میں کردیا جائیگا۔ یاد رہے کہ وقار یونس ماضی میں بھی پاکستانی ٹیم کے کوچ رہ چکے اور انکے دور میں گرین شرٹس نے اہم کامیابیاں بھی انجام دیں تاہم انھوں نے بیماری کو جواز بنا کر عہدہ چھوڑ دیا تھا، ذرائع کے مطابق فیصلے کی اصل وجہ کپتان شاہد آفریدی سے اختلافات بنے تھے۔

وقار یونس بھی ایک بار پھر قومی ٹیم کا چیف کوچ بننے کیلیے پُرامید لیکن دل کی بات زبان پر لانے سے گریز کر رہے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ میری نجم سیٹھی کے ساتھ اچھی اور تفصیلی ملاقات ہوئی، البتہ جہاں تک بطور کوچ انتخاب کا معاملہ ہے تو اس بارے میں وقت ہی بتائے گا، میڈیا کے ذریعے سب کو پہلے ہی معلوم ہے کہ میں نے کمیٹی کوکوچنگ کیلیے درخواست دے رکھی ہے،قومی ٹیم کی کوچنگ کی شدید خواہش ہے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ابھی تک بورڈ نے چیف کوچ کاکوئی فیصلہ نہیں کیا، اس لیے میراکچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، میری رائے میں پہلے سے قیاس آرائیاں کرنا ٹھیک نہیں ہے، ہمیں کچھ انتظار کرنا چاہیے، اگر میں ہی قومی ٹیم کا کوچ ہوا تو آپ کے سامنے کر تفصیلی پروگرام پیش کروں گا۔ سابق کپتان نے کہا کہ میرا کسی سے ماضی میں کوئی اختلاف تھا اور نہ اب ہے، البتہ گھر میں ساتھ رہنے والوں کے درمیان بھی کچھ تلخیاں ہو ہی جاتی ہیں، انھوں نے کہا کہ اس ملک نے ہمیں نام، عزت ، دولت سب کچھ دیا اب اسے کچھ لوٹانے کی خواہش ہے۔