سابق ہاکی کپتان انوار احمد چل بسے تدفین آج ہوگی

گراں قدر خدمات پر ستارہ امتیاز پایا،انتقال پر پی ایچ ایف اور سابق پلیئرز کا اظہار تعزیت


Sports Reporter May 03, 2014
گراں قدر خدمات پر ستارہ امتیاز پایا،انتقال پر پی ایچ ایف اور سابق پلیئرز کا اظہار تعزیت فوٹو : فائل

قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اپنے دور کے عظیم سینٹر ہاف انوار احمد خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

ان کی عمر 80 برس تھی، مرحوم کی نماز جنازہ ہفتے کو بعد نماز ظہر مسجد عظمیٰ، کے ڈی اے اسکیم نمبر1، کارساز میں ادا کی جائے گی، پاکستان کسٹمز سے بحیثیت اسسٹنٹ کلکٹر ریٹائرڈ ہونے والے انوار احمد خان کو حکومت نے قومی ہاکی میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا، وہ 1960 روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ رہے، علاوہ ازیں وہ 1956 اور 1964 اولمپکس میں سلور میڈل حاصل کرنے والی قومی ہاکی ٹیموں میں بھی شامل تھے، مزید برآںانوار احمد خان کو 1958 اور1964 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل پانے والی پاکستانی ہاکی ٹیموں میں شمولیت کا بھی اعزاز ملا، وہ 3 مرتبہ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان بھی مقرر ہوئے، وہ 1975اور1986کے عالمی کپ میں قومی ٹیم کے منیجر رہے،وہ 1986کے ایشین گیمز میں قومی ٹیم کے کوچ بنے۔

اس سے قبل 1982 میں عالمی جونیئر کپ میں قومی جونیر ٹیم کے منیجر بھی رہے تھے، قومی سینئر اور جونیئر ہاکی ٹیموں کے سلیکٹر رہنے والے انوار احمد خان نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ہاکی کمنٹری بھی کی، وہ 2 کتابوں کے مصنف بھی تھے جس میں ان کی سوانح حیات اور حکایات ہاکی بھی شامل ہے، اپنے دور میں مضبوط دفاعی کھلاڑی گردانے جانے والے انوار احمد خان کو یورپی میڈیا نے 'راک آف جبرالٹر' کا لقب دیا تھا، مرحوم کی2 پوتیوں نیہا خان اور وانیا خان کا شمار ملک کی ممتاز خواتین ٹینس کھلاڑیوں میںہوتا ہے، دریں اثنا پی ایچ ایف کے صدرچوہدری اختر رسول، سیکریٹری رانا مجاہد علی خان، چیف سلیکٹر و سابق کپتان اصلاح الدین، قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ، سابق قومی کپتان سمیع اللہ خان، حسن سردار، حنیف خان، عبدالوحید خان،اولمپئن افتخار سید، کے ایچ اے کے صدر واسع جلیل اور سیکریٹری محمد فاروق خان نے سابق اولمپئن انوار احمد خان کی رحلت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے۔