زرعی فصلوں پر ٹیکس منڈی میں وصول کرنے کی تجویز

ورلڈ بینک نے پاکستان کو زرعی آمدنی پر اس وقت ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے


Editorial May 04, 2014
پاکستان کا ٹیکس، جی ڈی پی تناسب سے انتہائی کم ہے جو کہ بمشل 9 فیصد کے قریب بنتا ہے. فوٹو:فائل

اخباری خبر کے مطابق ٹیکس محصولات کو مناسب سطح اور معقول درجے پر لے جانے کے لیے ورلڈ بینک نے پاکستان کو زرعی آمدنی پر اس وقت ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے، جس وقت کسان فصل کو منڈی میں لاتا ہے۔ اس حوالے سے محصولات کا موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان میں محصولات کا نظام زیادہ تر بالواسطہ ٹیکسوں پر استوار ہے۔ عام صارفین کو تقریباً تمام اشیائے صرف پر حکومت کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور کئی ٹیکس تو ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ بار دینے پڑتے ہیں جس کے نتیجے میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

حکومت کے لیے محاصل اکٹھے کرنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ پیٹرول اور بجلی پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا جائے جس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمت میں خودبخود ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے کیوں کہ پیٹرول پر ٹیکس سے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جب کہ بجلی کے نرخوں کا اثر مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا جواز پیدا کرتا ہے۔ جہاں تک بلاواسطہ یعنی براہ راست ٹیکسوں کا تعلق ہے تو اس میں بڑے ٹیکس دھندگان محکمہ ٹیکس کے متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ مک مکا کر کے ٹیکس بچا لیتے ہیں اور ایف بی آر کو تقریباً ہمیشہ ہی اپنے طے شدہ اہداف پر نظر ثانی کر کے ہدف کو کم کرنا پڑتا ہے جس کے بعد حکومت کو اپنے اخراجات چلانے کے لیے مجبوراً پیٹرول اور بجلی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے یا کشکول پکڑ کر عالمی مالیاتی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور یوں ملک کی عالمی سطح پر رسوائی ہوتی ہے۔

پاکستان کے زرعی شعبے کے بارے میں شروع ہی سے یہ تاثر قائم ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے لیکن چھوٹے کاشتکاروں کو کھادوں، پیسٹی سائیڈز اور آبیانے وغیرہ پر جو اخراجات کرنا پڑتے ہیں اس کے بعد ان کی یافت نہایت قلیل رہ جاتی ہے جو ان کے غریبانہ گزارے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی جب کہ بڑی بڑی زمینوں والے جاگیردار چونکہ خود قانون ساز اسمبلیوں میں براجمان ہوتے ہیں اس لیے وہ ایسے قانون تشکیل دیتے ہیں کہ ان پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم پڑے۔ اب اگر ورلڈ بینک کی تجویز واقعی پیش ہوئی ہے تو اس کی زد میں بھی لامحالہ چھوٹے زمیندار ہی آئیں گے۔ ورلڈ بینک کی تجویز کے مطابق پاکستان مارکیٹنگ اسٹیج پر احتمالی (presumptive) زرعی آمدنی پر ٹیکس لگا سکتا ہے۔ اس کے تحت گندم، کپاس، چاول سمیت فصلوں کی مجموعی مالیت پر ایک مخصوص تناسب سے ٹیکس وصول کیا جائے۔

تاہم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ منصوبے پر کام کیا جا سکتا ہے اور صوبائی حکومتیں فصل کی مالیت پر دو فیصد احتمالی ٹیکس عائد کر کے اچھا خاصا ریونیو اکٹھا کر سکتی ہیں۔ واضح رہے گزشتہ مالی سال میں زراعت سے حاصل شدہ کل محصولات ایک ارب روپے سے بھی کم تھے۔ آئین کے مطابق زراعت سے آمدنی صوبائی معاملہ ہے مگر بہت سے جاگیردار اور کارخانہ دار قانون کی اسی خامی کا سہارا لینے ہوئے ٹیکس بچانے کے لیے اپنی آمدنی کو زرعی آمدنی ظاہر کر دیتے ہیں۔ تجریہ کاروں کے مطابق صوبائی حکومتیں زرعی آمدنی پر ٹیکس نہیں لے رہیں کیونکہ زیادہ تر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔

پاکستان کا ٹیکس، جی ڈی پی تناسب سے انتہائی کم ہے جو کہ بمشل 9 فیصد کے قریب بنتا ہے جب کہ وفاقی حکومت کی اسے بہتر کرنے کی کوششیں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں، ایف بی آر 2345 ارب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ زرعی شعبے پر ٹیکس کا معاملہ عرصے سے چل رہا ہے' اصولی طور پر زرعی ٹیکس عائد کرتے ہوئے ملکیت کی حد کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ 5 تا 12 ایکڑ ملکیت رکھنے والے کسان کی فی ایکڑ پیداوار خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو' اسے خوشحال قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے انکم ٹیکس وصول کیا جانا چاہیے۔ غیر حاضر زمیندار جو سیکڑوں ایکڑ کے مالک ہیں' ان پر ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ یہ ٹیکس انکم کی مد میں ہو یاویلتھ ٹیکس کی مد میں۔ بہر حال ملک کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لیا جانا چاہیے۔