سابق کپتان ای ین چیپل کی بنگلہ دیش اور زمبابوے کی مشترکہ ٹیم بنانے کی تجویز

آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور افغانستان کی کمبائنڈ الیون بھی میدان میں اتار جاسکتی ہے، ای ین چیپل


Sports Desk May 05, 2014
آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور افغانستان کی کمبائنڈ الیون بھی میدان میں اتار جاسکتی ہے، ای ین چیپل۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا کے سابق کپتان ای ین چیپل نے بنگلہ دیش اور زمبابوے کی مشترکہ ٹیسٹ ٹیم تیار کرنے کی تجویز پیش کردی۔

ان کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور افغانستان کی بھی کمبائن سائیڈ تیار ہوسکتی ہے، طویل طرز کے فارمیٹ کو تھنک ٹینک کی ضرورت ہے، ٹیسٹ چیمپئن شپ اور ڈے اینڈ نائٹ پانچ روزہ میچز کو ممکن بنایا جانا چاہیے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا۔ چیپل نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اگر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے طویل المدتی پالیسی پر سوچ بچار کرتی ہے تو اس سے پانچ روزہ مقابلے مزید سنسنی خیز اور مسابقتی ہوسکتے ہیں۔

گذشتہ دنوں ٹیسٹ رینکنگ میں سالانہ اپ ڈیٹ کے نتیجے میں آسٹریلیا ایک بار پھر ٹاپ ٹیم بن گیا مگر کپتان مائیکل کلارک کا یہ بیان کچھ لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہوگا کہ یہ ان کی زندگی یا کیریئر کا سب سے بہتر دن نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹر پر ایک کلک سے رینکنگ اپ ڈیٹ ہونے سے کہیں زیادہ تسلی بخش آپ کے لیے فیلڈ میں پرفارمنس ہوتی ہے، کلارک کو 17 دسمبر اور 5 مارچ کو زیادہ اطمینان ہوا ہوگا جب پہلے ان کی قیادت میں ٹیم نے ایشز ٹرافی پر پھر سے قبضہ جمایا اور پھر جنوبی افریقہ میں بھی کامیابی حاصل کی۔

چیپل نے کہا کہ یہ ٹیسٹ چیمپئن شپ شروع کرنے کا آئیڈیل ٹائم تھا مگر آئی سی سی ممبران میں سے کچھ کو خاص طور پر ٹی وی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی فکر ہے ، یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اس ایونٹ میں ٹی وی مفادات بہت کم ہیں، میں اس حوالے سے کیری پیکر کی مثال دیتا ہوں جنھوں نے 1970 کی دہائی میں ورلڈ سیریز متعارف کرانے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا سے حقوق لیے تھے، بعض اسپورٹس فیڈریشنز کا کہنا ہے کہ کسی میڈیا کمپنی کو اپنے کھیل کو چلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

اب اگر آئی سی سی کے مارکیٹنگ آفیشلز اگر ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے بہترین ٹی وی پیکیج تیار نہیں کرسکتے اور اسپانسرز کو نہیں گھیر سکتے تب پھر میں یہی کہوں گا کہ اس معاملے میں ان کی صلاحیتیں مجھ سے بھی کم ہیں، چیپل نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی بہتری کے لیے تھنک ٹینک تشکیل دینا چاہیے، اگر بنگلہ دیش اور زمبابوے کی ٹیموں کو ختم نہیں کیا جاسکتا تب پھر دونوں کی ایک مشترکہ ٹیسٹ سائیڈ بنادینی چاہیے جس میں دونوں سائیڈز کے بہترین کھلاڑی ہوں گے تو یہ دیگر ٹیموں کا عمدگی سے مقابلہ کرپائے گی، اسی طرح اگر چھوٹی ٹیموں کو ٹیسٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہے تو پھر آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور افغانستان کے کھلاڑیوں پر بھی مشتمل ٹیسٹ سائیڈ تیار کرلینی چاہیے۔