تھرکول کے مزید 4 بلاکس کی نیلامی میں 10 پارٹیوں کی اظہار دلچسپی

نیلامی میں چینی، امریکی کمپنیوں اور کنسورشیم سمیت7غیرملکی اور3مقامی پارٹیاں شامل، پیشکشوں پرغور کیا جارہا ہے


Business Reporter May 08, 2014
نیلامی میں چینی، امریکی کمپنیوں اور کنسورشیم سمیت7غیرملکی اور3مقامی پارٹیاں شامل، پیشکشوں پرغور کیا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

تھرکول کے مزید 4 بلاکس کی نیلامی میں ملکی و غیرملکی کمپنیوں نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے لیے 4 مزید بلاکس کی نیلامی کے لیے حکومت نے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کی تھیں۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین خورشید جمال نے گزشتہ روز تھر کول پراجیکٹ سے متعلق ایک بریفنگ کے موقع پر ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ تھر کے کوئلے کے مزید 4بلاکس کی نیلامی کے لیے 3مقامی اور 7غیرملکی پارٹیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، غیرملکی پارٹیوں میں چین کی 3 امریکا کی 1، روس و چین کے کنسوریشم پر مشتمل 1 گروپ جبکہ مڈل ایسٹ اور چینی کمپنیوں کے کنسورشیم پر مشتمل 2 گروپ شامل ہیں، ان پیشکشوں پر غور کیا جارہا ہے اور کچھ پارٹیوں سے اضافی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت ترجیحی بنیادوں پر تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے مکمل کرنا چاہتی ہے، سندھ حکومت کی سنجیدگی اور ملک کی سیاسی قیادت میں توانائی کی خودکفالت کے لیے اتفاق رائے نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 4مزید بلاکس کی نیلامی رواں مالی سال کے آخر تک مکمل کرلی جائے گی، سندھ حکومت نے پاور پراجیکٹ کے لیے سال 2013-14کے بجٹ میں 15ارب روپے مختص کیے تھے جس میں سے 5ارب روپے تھرکول منصوبے کے لیے ''کول فنڈ'' میں مختص کیے گئے، یہ رقم اب بڑھا کر 8ارب روپے کردی گئی ہے۔

تھر میں اینگرو اور سندھ حکومت کے مشترکہ منصوبے کے فزیکل ورکس اور ڈیولپمنٹ کے لیے 1.5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، سندھ حکومت کی51 فیصد ایکویٹی کے لحاظ سے ساڑھے 3سال میں 15ارب روپے انویسٹ کرے گی جس کے لیے سالانہ 5ارب روپے کا فنڈ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی پاور پراجیکٹس کے لیے 10سے 15 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے اور اگر اسی طرح تسلسل کے ساتھ پاور پراجیکٹس کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے رہے تو منصوبے کی ایکویٹی کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور منصوبے کو بروقت مکمل کیا جاسکے گا۔