گستاخانہ فلم کے خلاف پاکستان میں احتجاج

امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان نفرت کی دیوار کو کھڑا کیا جا رہا ہے


Editorial September 18, 2012
امریکا نے سیکیورٹی کے پیش نظر سوڈان اور تیونس سے اپنا تمام غیر ضروری سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے اور اپنے شہریوں کو ان ممالک کا سفر کرنے سے روک دیا ہے. فوٹو: فائل

امریکا میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف لاہور' کراچی سمیت ملک بھر میں اتوار کو مظاہرے ہوئے۔

یوں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ لیبیا'مصراور یمن سے نکل کر پاکستان تک پہنچ گیاہے۔ کراچی میں مشتعل مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر امریکی قونصل خانے میں داخل ہو گئے، انھوں نے عمارت پر پتھرائو کیا اور ایک پولیس چوکی، 5 پولیس موبائلوں' بس اور پٹرول پمپ کو آگ لگا دی۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد لاٹھی چارج اور فائرنگ کی جس سے ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

امریکا میں بننے والی گستاخانہ فلم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا ہے اور وہ اس کے خلاف مسلسل مظاہرے کررہے اور امریکا سے اس فلم کو یوٹیوب سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیبیا میں امریکی سفیر مظاہرین کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یمن میں بھی مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کرکے کمپائونڈ کو آگ لگا دی تھی۔

اس وقت تمام مسلم دنیا میں امریکی سفارتخانوں کی سیکیورٹی ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ امریکا نے سیکیورٹی کے پیش نظر سوڈان اور تیونس سے اپنا تمام غیر ضروری سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے اور اپنے شہریوں کو ان ممالک کا سفر کرنے سے روک دیا ہے۔

اگلے روز مظاہروں کے پیش نظر تمام مسلم ممالک میں مغربی ممالک کے سفارتخانوں میں ہائی الرٹ رہا۔ ان حقائق سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس رخ پر جا رہے ہیں۔تحریر و تقریر کی آزادی پر کسی کو اختلاف نہیں'فلم یا ڈرامہ بنانے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں مگر اس کی بھی حدود وقیود ہیں۔ معاشرے میں اخلاقی اقدار مادر پدر آزاد نہیں ہوتیں۔ہر معاشرے اور قوم کے کچھ حقائق ہوتے ہیں۔

تمام قوموں کو ایک دوسرے کے مذہب اور عقائد کا احترام کرنا لازم ہوتاہے۔ ریاست کسی قسم کی گڑ بڑ' افراتفری اور فساد سے بچنے کے لیے کچھ قوانین طے کرتی ہے جنھیں توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ کسی بھی شخص کی جانب سے کوئی بھی ایسی حرکت جو پورے معاشرے میں بے چینی اور افراتفری کا باعث بنے اسے لازماً قانون کی گرفت میں لایا جاتا ہے۔

امریکا میں چند شرپسند لوگوں نے مل کر جو کچھ کیا اسے دنیا کا کوئی مہذب شخص اچھا قرار نہیں دے سکتا۔ صدر اوباما یہ دعویٰ تو کر رہے ہیں کہ امریکا تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور وہ دوسرے مذاہب کی بے حرمتی کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

امریکا تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے تو ٹیری جونز کو اتنی کھلی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے کہ اس کی ایک مذموم حرکت سے پوری مسلم دنیا میں امریکی سفارتخانوں پر حملے شروع ہو گئے ہیں یہاں تک کہ لیبیا اور یمن میں امریکا کو خصوصی میرین یونٹس اور شمال افریقی سمندری حدود میں دو بحری جنگی جہاز تعینات کرنا پڑے ہیں۔ پوری مسلم دنیا سراپا احتجاج بن گئی اور امریکی پرچم جلائے جا رہے ہیں۔

امریکا اور مسلم دنیا کے درمیان نفرت کی دیوار کو کھڑا کیا جا رہا ہے۔کیا امریکا کے حکام کا یہ فرض نہیں کہ وہ شریر اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کریں۔امریکا میں انٹیلی جنس ایجنسیاں مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے میں بڑی مستعد ہیں۔ کیا ان کی نظر ایسے شرپسندوں پر نہیں پڑتی جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ادھر امریکی الیکشن قریب آ رہے ہیں۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اوباما مخالف ریپبلکن پارٹی اور کچھ لابیاں مل کر اوباما کو انتخابات میں شکست دینے کے لیے گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں اور باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ایسے گروپوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے جس سے اوبامہ حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو ۔ امریکا مسلم دنیا میں سفارتخانوں کی حفاظت کے لیے مسلح سپاہی تو بھیج رہا ہے جن پر اس کی بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے۔

وہ چند سپاہی بھیج کر ٹیری جونز کو گرفتار کرکے اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا اور آیندہ ایسے واقعات کے انسداد کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کرتا جس سے پوری مسلم دنیا میں امریکیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔اگر ایسا ہو جائے تو صورت حال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔