پاکستان کی عالمی ادارہ صحت سے اپیل

پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات کیے جائینگے


Editorial May 08, 2014
پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات کیے جائینگے. فوٹو: فائل

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں پولیو کی بیماری کے مبینہ پھیلائو اور اس کے تدارک کی کوششوں پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پر سفری پابندیاں عاید کرنے کے امکان کا اعلان کیا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم دو ہفتوںکی مہلت تو دی جائے تا کہ ہمیں ہنگامی طور پر انسدادی اقدامات کرنے کا موقع مل سکے۔ اس اپیل کے ساتھ کہ بھارت کو تو اس حوالے سے پورے دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا لیکن پاکستان پر یکلخت یہ فیصلہ ٹھونس دیا گیا ہے جو قرین انصاف نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی خاتون نمایندہ نے اسلام آباد میں پاکستانی سرکاری نمایندوں کو بتایا کہ عالمی ادارے کے اقدامات کا مقصد پولیو سے متاثرہ ممالک سے وائرس کی منتقلی کو روکنا ہے۔

ادھر وزیر مملکت برائے ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں پولیو کی صورتحال اور اور سفری ایڈوائزری کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جو دو ہفتے کے اندر اندر تیار کر لیا جائے گا جب کہ دفتر خارجہ کو عالمی سطح پ لابنگ کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے کہ ایمرجنسی میں بیرون ملک جانے والوں پر یک لخت پابندیاں لگانا درست نہیں۔ واضح رہے پاکستان کو سالانہ اسی کروڑ روپے کی پولیو ویکسین درکار ہے جب کہ ملک کے مختلف ہوائی اڈوں سے روزانہ تقریبا ستائس ہزار افراد بیرون ملک جاتے ہیں جن کو اب صوبائی حکومتیں ویکسین کارڈ جاری کریں گی۔

پاکستان نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات کیے جائینگے۔ واضح رہے عالمی ادارہ نے سفری پابندی نہیں لگائی اس کی صرف سفارش کی ہے، حکمت عملی طے کرنے کے لیے عالمی ادارہ سے 15روز کا وقت مانگا ہے، سب سے بڑا مسئلہ پولیو ویکسین کی فراہمی ہے، تاہم حکومت پاکستان نے عالمی ادارہ صحت کے اعلان کے خلاف اپیل نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کا موقف درست ہے' پاکستان کو وقت دیا جانا چاہیے' ادھر حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ جائزہ لے کہ پولیو کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹیں کیا ہیں اور انھیں جلد از جلد دور کر کے عالمی برادری کے معیار پر پورا اترے تاکہ پاکستان نئے مسائل سے دوچار نہ ہو۔