انڈر 17 کرکٹ ٹیم اگست میں انگلینڈ کا دورہ کرے گی

انڈر17سائیڈ کی تشکیل کا مقصد ایک مضبوط جونیئر ٹیم کو سامنے لے کر آنا ہے، باسط علی


Sports Reporter May 09, 2014
انڈر17سائیڈ کی تشکیل کا مقصد ایک مضبوط جونیئر ٹیم کو سامنے لے کر آنا ہے، باسط علی ۔فوٹو: ایکسپریس/فائل

پاکستان انڈر17کرکٹ ٹیم رواں ماہ اگست میں انگلینڈ کا دورہ کرے گی۔

جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی کے مطابق پی سی بی نے گراس روٹ لیول پر کھیل کے فروغ کیلیے جامع پروگرامز تشکیل دیے ہیں جس کے دورس نتائج برآمد ہوں گے۔ جونیئر سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سلیکٹرز کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میں شیڈول پی سی بی انڈر16 کرکٹ ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے، اس کے بعد باصلاحیت پلیئرزکا کیمپ لگایا جائے گا۔

اس سے انڈر17 ٹیم کا انتخاب کریں گے جو رواں برس اگست میں انگلش کرکٹ ٹیم کے ساتھ 2 طرفہ سیریز کھیلے گی۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انڈر17سائیڈ کی تشکیل کا مقصد ایک مضبوط جونیئر ٹیم کو سامنے لے کر آنا ہے تاکہ مستقبل کے بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں کامیابیاں حاصل کی جا سکیں، باسط علی نے کہا کہ انڈر 17 ٹیم کو مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے اور اس ٹیم کے پلیئرزکو 2016 کے جونیئر ورلڈکپ میں کھیلنے کا موقع دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ زائد العمر کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی،اس کے لیے ہم نے خصوصی ٹیسٹ بھی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جس سے کسی بھی کھلاڑی کی اصل عمر کا تعین کیا جا سکے گا۔انھوں نے کہا کہ کراچی کے ایک کھلاڑی عمران شاہ کو زائد العمر ہونے پر انڈر 16 ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا جس پر کافی ہنگامہ ہوا، مگر جمعرات کو اس کی ٹیسٹ رپورٹ ہمیں موصول ہوئی، اس میں وہ زائد العمر قرار پایا ہے۔ایک سوال پر باسط علی نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے پورا زور لگاتے ہوئے ہر وسائل کو استعمال کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ اصولوں کی جنگ لڑی ہے، ماضی کے ڈومیسٹک سسٹم پر کچھ تحفظات تھے جس کے خلاف آواز اٹھائی، اب بھی جو بھی غلط کام ہوا اس پر اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ باسط علی نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی سے ملاقات ہوئی، ان کا انداز اچھا ہے تاہم میں سابق بورڈ چیف ذکا اشرف کی بھی عزت کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں۔ سلیکٹر علی ضیا نے کہا کہ زائد العمر کھلاڑیوں کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ہمارے ڈاکٹر ٹیسٹ کرتے ہیں، بعد ازاں پلیئرز کا شوکت خانم میموریل اسپتال سے کلائی ٹیسٹ کرانے کے ساتھ نادرا سے بھی رجوع کیا جاتا ہے، اس کے باوجود کسی کھلاڑی کو شک ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ خود ٹیسٹ کرا سکتا ہے۔