حکومت طالبان مذاکراتبے یقینی بدستور قائم

اگر حملوں کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو پھر معاملات میں بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے ...


Editorial May 09, 2014
اگر حملوں کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو پھر معاملات میں بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

SWAT: حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ڈیڈ لاک بدستور جاری ہے۔ چار رکنی حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان شوریٰ کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر چکے ہیں مگر ابھی تک مذاکرات کے سلسلے کو بحال کرنے کے بارے میں گومگو کی کیفیت بدستور جاری ہے اور مذاکرات شروع ہونے سے بہتری کی جو آس بندھی تھی وہ ٹوٹتی نظر آ رہی ہے۔

ایک جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ ایک بار پھر سے بحال کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں تو پھر انھیں نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ اب کی بار ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مذاکرات کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہنے کے بعد پھر سے منقطع ہو جائے۔ دونوں فریق مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ بلا کسی رکاوٹ کے جلد از جلد کسی سمجھوتے پر پہنچا جا سکے۔ ایک جانب مذاکرات بحال کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں تو دوسری جانب ناخوشگوار واقعات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو چکا ہے ۔ شمالی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر میرانشاہ میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 9سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ' آئی ایس پی آر کے مطابق بم میرانشاہ غلام خان روڈ پر نصب کیا گیا تھا، متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، بی بی سی نے سیکیورٹی ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا جمعرات کو اس وقت ہوا جب ایف سی کا قافلہ غلام خان تحصیل کی جانب جا رہا تھا۔

دھماکے کے بعد فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ بھی کی ہے۔ ادھرجنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گیا۔حکومت نے طالبان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا ،اس دوران متعدد ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے مگر حکومت اس امر کا اعادہ کرتی رہی کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ہر ممکن طور پر کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ مذاکرات اور حملوں کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا۔اب صورتحال یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف جنگ اور دھمکی کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ طالبان کا موقف اپنی جگہ مگر انھیں اس امر پر غور کرنا ہو گا کہ وہ خود بھی سیکیورٹی اداروں پر حملے کر کے معاملات کو بگاڑ کی جانب لے جا رہے ہیں۔

اگر حملوں کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو پھر معاملات میں بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 9 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے بعد علاقے میں فوجی آپریشن کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سانحے کے بعد وزیراعظم سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ' امن و امان کی صورت حال اور طالبان سے مذاکرات کی آیندہ حکمت عملی کے بارے میں بات چیت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے 9 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، دہشت گردی کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں، حملوں میں ملوث عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، اس موقع پر وزیراعظم نے طالبان سے جاری امن مذاکرات کے حوالے سے بھی آرمی چیف کو اعتماد میں لیا۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ تحریک طالبان کی جانب سے سیز فائر میں توسیع سے انکار کے بعد بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان مذاکرات کی آڑ میں از سر نو صف بندی کے لیے محض وقت چاہتے ہیں۔

حکومت طالبان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے تو اسے مذاکرات کو جلد از جلد کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرنا چاہیے کیونکہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی جا رہی ہے اتنی ہی بے یقینی کی کیفیت بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ طالبان کے حملوں کے ردعمل میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کارروائی کی جاتی ہے۔ حکومت واضح کرے کہ وہ مذاکرات کو کیسے کامیاب بنا کر بہتری لا سکتی ہے اور اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے تو بھی اسے وقت گزاری کی پالیسی ترک کر کے صورت حال واضح کر دینی چاہیے تاکہ ریاستی اداروں کے لیے بھی یہ واضح ہو سکے کہ اب انھیں مستقبل کے لیے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ طالبان واضح کر چکے ہیں کہ جنگ کے ساتھ ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

وہ حکومت پر یہ الزام دھرتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے مگر طالبان کو اپنے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان کی جانب سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا اور وہ سیکیورٹی اداروں پر حملے کر کے اشتعال انگیز صورت حال کو جنم دے رہے ہیں۔ گومگو کی یہ کیفیت جب تک جاری رہے گی ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ ضروری ہے کہ حکومت اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے کہ ملک میں امن و امان بحال کرنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں یا آپریشن' اسے جلد از جلد کسی نتیجہ پر پہنچنا ہو گا۔