اسلام کے خلاف ایک مکروہ سازش

مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بوکو حرام القاعدہ کی ہی ایک شاخ ہے جس کا نام استعمال کرکے امریکا نےعالمی جنگ کا آغاز کیا


Editorial May 09, 2014
مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بوکو حرام القاعدہ کی ہی ایک شاخ ہے جس کا نام استعمال کرکے امریکا نےعالمی جنگ کا آغاز کیا۔ فوٹو: فائل

SIALKOT: نائیجیریا میں ''بوکو حرام'' کہلوائے جانے والا ایک جنگجو گروپ کے بارے میں عالمی میڈیا سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اس نے سیکڑوں کی تعداد میں اسکول طالبات کو اغوا کر لیا ہے یا ایسی کوششیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے حیرت و تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ جنگجو گروپ خود کو اسلامی جہادی گروہ کے طور پر پیش کرتا ہے اور اپنا مکمل نام ''جماعت اہل السنہ لدعوت و الجہاد'' بتاتا ہے۔ لیکن یہ کون سی اسلامی دعوت ہے جس کے لیے معصوم طالبات کو اغوا کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی تعجب انگیز ہے کہ ستاون اسلامی ملکوں کی تنظیم ''او آئی سی''نے بوکو حرام کی اس کارروائی پر محض برہمی کا اظہار ہی کیا ہے حالانکہ تمام عالم اسلام کی نمایندگی کرنے والی اس تنظیم کو واشگاف الفاظ میں اعلان کرنا چاہیے کہ اسلام ایسی شرمناک کارروائیوں کی ہر گز اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی کسی مجرمانہ گروہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسلام کے نام کو استعمال کرنا چاہیے۔ مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بوکو حرام القاعدہ کی ہی ایک شاخ ہے جس کا نام استعمال کر کے امریکا نے دہشتگردی کی عالمی جنگ کا آغاز کیا تھا جو تیرہ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک انجام کو نہیں پہنچی۔

یہاں یہ بات بطور خاص قابل غور ہے کہ امریکی خاتون اول مشعل اوباما کا آبائی تعلق بھی اسی علاقہ سے ہے جہاں سے طالبات کو اغوا کیا گیا ہے لہٰذا امریکی صدر کی اہلیہ نے ان لڑکیوں کی اغوا کنندگان سے رہائی کے لیے سوشل میڈیا میں جاری مہم میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ''ہماری لڑکیوں کو واپس لاؤ'' خاتون اول کے مطالبے پر امریکی حکومت نے امریکی فوجی کمانڈوز کی ایک ٹیم نائجیریا بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ طالبات کو ڈرامائی کمانڈو کارروائی کے ذریعے اغوا کنندگان سے رہائی دلائی جا سکے۔ اب یہاں ایک طرف ستاون اسلامی ملکوں پر مشتمل تنظیم او آئی سی کی طرف سے صرف زبانی مذمت کا اظہار کیا ہے جب کہ امریکا اپنی خاتون اول کی خوشنودی کے لیے عملی کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔

اسلامی کانفرنس تنظیم اگر کچھ اور نہیں کر سکتی تو کم از کم اتنا تو کر سکتی ہے کہ وہ اسلام کا نام بدنام کرنے والی تنظیموں کے بارے میں اتنی وضاحت کر دے کہ اسلام کا لڑکیوں کے اغوا جیسی قبیح حرکات سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض مبصرین کی رائے ہے کہ اسلام کے نام کو بدنام کرنے کی خاطر ایک گہری سازش کے تحت ایسی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ یہ بات بطور خاص نوٹ کرنے کی ہے کہ نائیجیریا براعظم افریقہ کا وہ ملک ہے جس میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں اور عالمی قوتیں اس ملک کا بری طرح استحصال کر رہی ہیں اور اس وجہ سے یہاں انارکی اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔