تبدیلیوں کی لہر ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے قدم نہ اکھاڑ سکی

سخت تنقید سے بورڈ بیک فٹ پر چلا گیا،ڈومیسٹک اسٹرکچرکی جائزہ کمیٹی نے اداروں کی ٹیمیں ختم نہ کرنے کی تجویز دیدی


Sports Reporter May 10, 2014
اسپانسرز کی تلاش کیلیے پیشکشیں طلب کی جائیں گی، ہر علاقائی ٹیم کمپنی لوگو کے ساتھ فرسٹ کلاس میچز کھیلے گی فوٹو: فائل

تبدیلیوں کی لہر ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے قدم نہ اکھاڑ سکی،سخت تنقید کے بعد پی سی بی کو بالآخر بیک فٹ پر آنا پڑا، ڈومیسٹک اسٹرکچر کی جائزہ کمیٹی نے اداروں کی ٹیموں کو ختم نہ کرنے کی تجویز دیدی، سرکردہ ریجنز کی اسپانسر شپ کیلیے ملٹی نیشنل کمپنیز تلاش کی جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا تھنک ٹینک فرسٹ کلاس اسٹرکچر سے ڈپارٹمنٹس کی ٹیمیں ختم کرکے ان اداروں کو ریجنز کی سپورٹ کا پابند کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا،تجاویز منظر عام پر آتے ہی کرکٹ حلقوں اور سابق کرکٹرز نے سخت تنقید شروع کر دی، ان میں اقبال قاسم پیش پیش رہے،جاوید میانداد بھی مخالفین میں شامل تھے،ان کا کہنا تھا کہ اداروں کی ٹیمیں پاکستان میں انگلش کاؤنٹیز جیسا کردار ادا کرہی ہیں،کرکٹرز کو بے روزگار کرنے والا کوئی بھی اقدام کھیل دشمنی کے برابر ہوگا، پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے سسٹم کے از سر نو جائزے کیلیے اپنے پرنسپل ایڈوائزر ظہیر عباس کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے دیگر ارکان میں ڈائریکٹر گیم ڈیولپمنٹ ہارون رشید،مینجمنٹ کمیٹی کے رکن شکیل شیخ اور اقبال قاسم شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے باہمی مشورے اور ڈپارٹمنٹس کے سربراہوں سے رائے لینے کے بعد اداروں کی ٹیمیں ختم کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے،آئندہ سیزن میں زیادہ سائیڈز ایکشن میں دکھائی دینگی۔ اس فیصلے سے ریجنز کو وہ مالی معاونت میسر نہیں آسکے گی جس کی قبل ازیں متعارف کرائے جانے والے نئے منصوبے میں توقع کی جا رہی تھی،اس کمی کو پورا کرنے کیلیے سرکردہ ریجنز کی اسپانسر شپ ملٹی نیشنل کمپنیزکے ذریعے حاصل کی جائے گی،ہر علاقائی ٹیم کمپنی کے نام کیساتھ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے گی، اسپانسرز کی تلاش کیلیے باضابطہ طور پر پیشکشیں طلب کی جائیں گی، زیادہ بڑی بولی دینے والی کمپنی فرنچائز ٹیم کو اپنا نام دینے کی حقدار ہوگی۔