سینٹرل کنٹریکٹ میں تاخیر سے قومی پلیئرز کی بے تابیاں بڑھنے لگی

معاہدہ نہ پانے والے کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں دلچسپی کم ہوجائے گی اس لئے انتظار بہتر ہوگا، سلیکٹرز کی رائے


Sports Reporter May 11, 2014
سال کا پانچواں ماہ شروع ہونے کے باوجود قومی کرکٹرز ابھی تک نئے سینٹرل کنٹریکٹس کے منتظر ہیں فوٹو: فائل

سینٹرل کنٹریکٹ میں تاخیر سے پلیئرز کی بے تابی بڑھنے لگی، لاہور کی سخت گرمی میں جاری کنڈیشننگ کیمپ میں جوش ٹھنڈا پڑنے کے ڈر سے اعلان موخر کیا گیا۔سلیکٹرز کا خیال ہے کہ معاہدہ نہ پانے والے کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں دلچسپی کم ہوجائے گی، اس لئے انتظار کرنا بہتر ہوگا، بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے باصلاحیت پلیئرز کی مالی معاونت کیلیے ڈی کیٹیگری کی تجویز پیش کردی، حتمی فیصلوں سے قبل فٹنس رپورٹ تیار کرنے کے بعد ہیڈ کوچ وقار یونس اور معاون اسٹاف سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سال کا پانچواں ماہ شروع ہونے کے باوجود قومی کرکٹرز ابھی تک نئے سینٹرل کنٹریکٹس کے منتظر ہیں،ابتدائی فہرست تیار ہونے کے باوجود اعلان میں غیر معمولی تاخیر کے باعث کھلاڑیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے نئے معاہدوں میں پلیئرز کو ملنے والے انفرادی انعامات اور اسٹیپنڈز کیٹیگری ختم کرنے کا اشارہ دیا تھا جس پر کپتان مصباح الحق کے تحفظات سامنے آنے کے بعد شاہد آفریدی اور یونس خان کو بھی بلا کر رائے لی گئی، ذرائع کے مطابق ماہانہ تنخواہوں اور میچ فیس میں20 سے30فیصد اضافہ اور تھوڑی کمی بیشی سے انفرادی انعامات کا سلسلہ بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا چکا۔ یاد رہے کہ موجودہ معاہدوں کے تحت اے کیٹیگری میں شامل ہر کرکٹر ماہانہ ساڑھے 3 جبکہ بی کا حامل ڈھائی لاکھ سے زائد وصول کرتا ہے، سی کیٹیگری والوں کو ایک لاکھ 43ہزار جبکہ اسٹیپنڈزکی صورت میں72ہزار کے قریب رقم ملتی ہے۔

اے کیٹیگری کیلیے ٹیسٹ میچ فیس4لاکھ 40ہزار،بی کیلیے 3لاکھ 85 ہزار، سی کی 3لاکھ 30ہزار ہے۔ ون ڈے میچ کھیلنے کا معاوضہ اے کیٹیگری کیلیے 3لاکھ 63ہزار، بی کا2لاکھ 75ہزار اور سی کا 2لاکھ 20ہزار ہے۔ ٹوئنٹی20کرکٹ میں اے کیٹیگری کا فی میچ معاوضہ 2لاکھ 75ہزار، بی کا2لاکھ 20 ہزار اور سی کا ایک لاکھ 65ہزار ہے، ٹیسٹ سنچری بنانے والے کھلاڑی کو3 اور ڈبل سنچری پر 5 لاکھ روپے ملتے ہیں،5 یا زائد وکٹ پر 5 لاکھ جبکہ میچ میں 10 وکٹ پر 10 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں، اننگز میں3 کیچز فیلڈر کو ایک لاکھ روپے دلاتے ہیں، وکٹ کیپر 4کیچز یا اسٹمپڈ کرے تو 2 لاکھ روپے ملتے ہیں،5 کیچز یا اسٹمپڈ کی صورت میں رقم 3 لاکھ روپے ہو جاتی ہے، ہر رن آؤٹ پر ایک لاکھ روپے کا انعام ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل سنچری پر3 اور150 پر 5 لاکھ روپے ملتے ہیں،4وکٹ لینے والے بولر کو2،5 وکٹ پر 3 اور 6 وکٹ پر 5 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں،3 کیچزواسٹمپڈ پر وکٹ کیپر2 لاکھ،4 کیچز و اسٹمپڈ پر 3 لاکھ روپے پاتا ہے، ہر رن آؤٹ پر ایک لاکھ روپے انعام سمیت کئی مراعات بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق معین خان کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی، تاہم سخت گرمی میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیک وقت جاری کنڈیشننگ کیمپ میں کرکٹرز کا جوش ٹھنڈا پڑنے کے ڈر سے سنٹرل کنٹریکٹ کے اعلان میں تاخیر کردی گئی، سلیکٹرز کا خیال ہے کہ جن کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے نہ کیے گئے ان کی ٹریننگ میں دلچسپی کم ہوجائے گی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیپنڈ کیٹیگری ختم کئے جانے کے واضح اشارے ملنے سے اُبھرتے ہوئے کرکٹرز میں مایوسی پائی جاتی ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈکے ایک اعلیٰ عہدیدار نے باصلاحیت پلیئرز کی مالی معاونت کیلیے ڈی کیٹیگری کی تجویز پیش کردی،ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کیلیے پول اور بی ٹیم کی تیاری کیلیے مستقبل کی امید سمجھے جانے والے کرکٹرز کو بورڈ سے وابستہ رکھنا ضروری ہے، تاہم ڈی کیٹیگری کیلیے الگ شرائط وضع کی جائیں گی، حتمی فیصلوں سے قبل تمام کھلاڑیوں کی فٹنس رپورٹ کا جائزہ لینے کے ساتھ ہیڈکوچ وقار یونس اور معاون اسٹاف سے مشاورت بھی خاص اہمیت اختیار کرگئی ہے۔