ترکی کوئلے کی کان میں المناک حادثہ

سانحہ پر دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مشتعل افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا


Editorial May 15, 2014
سانحہ پر دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مشتعل افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ فوٹو؛ رائٹرز

ISLAMABAD: ترکی میں کوئلے کی ایک کان میں دھماکے کے باعث تین سو کے لگ بھگ کانکن ہلاک ہو گئے جب کہ ساڑھے چار سو کو زندہ بچا لیا گیا۔ ذرایع ابلاغ کے مطابق حادثے کے وقت کان میں آٹھ سو کے قریب کانکن کام کر رہے تھے۔ ترکی کے وزیر اعظم طیب رجب اردوان نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے نیز انھوں نے اپنا مجوزہ غیر ملکی دورہ بھی منسوخ کر دیا۔

صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترک حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے اور ترک بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان میں بھی یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ امریکا اور ایران نے بھی اس سانحہ پر ترکی سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ادھر اس سانحہ پر دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مشتعل افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران کئی افراد اور اہلکار زخمی ہو گئے۔ ترکی کا شمار اگرچہ تیسری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے تاہم اس کا کانکنی کے نظام میں جدید سہولتوں کی کمی ہے جنھیں اب بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ بہر حال ترکی اس وقت غمزدہ ہے' پاکستان کی حکومت کو غم کی اس گھڑی میں اپنے ترک بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے کیونکہ ترک حکومت نے بھی ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کی ہے۔