افغانستان میں ڈرون حملہ پاکستان حکومت ہوشیار رہے

اگر امریکا پاکستان میں طالبان پر حملہ کر دیتا ہے تو اس سے حکومت پاکستان کے لیے پھر سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں


Editorial May 15, 2014
اگر امریکا پاکستان میں طالبان پر حملہ کر دیتا ہے تو اس سے حکومت پاکستان کے لیے پھر سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں. فوٹو:فائل

امریکی ڈرون طیاروں نے بدھ کو پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقے نازیان میں طالبان کے جرگے کو نشانہ بنایا' اس حملے میں کئی اہم کمانڈروں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم فوری طور پر ان کے نام معلوم نہیں ہو سکے۔ کافی عرصہ سے امریکا نے ڈرون حملوں کا سلسلہ روکا ہوا تھا جس پر یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ اب ڈرون حملے نہیں کرے گا مگر اس نے اب یہ حملہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے اپنی ڈرون حملوں کی پالیسی روکی نہیں بلکہ جاری رکھی ہوئی ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان حملوں سے شدت پسندی کم ہونے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستانی حکومت جو طالبان سے امن مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے' تب تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ڈرون حملے نہیں روکے جاتے۔ امریکا نے پاکستانی حکومت کے مطالبے پر ڈرون حملے روک دیے جس سے یہ امید پیدا ہونے لگی کہ حکومت کے لیے طالبان سے مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔ اب اگرچہ امریکا نے حالیہ حملہ افغانستان میں کیا ہے مگر کیا بعید کہ وہ پاکستان میں بھی دوبارہ حملے شروع کر دے۔

پاکستان طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کیے ہوئے ہے' ایسے میں اگر امریکا پاکستان میں طالبان پر حملہ کر دیتا ہے تو اس سے حکومت پاکستان کے لیے پھر سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے حکومت پاکستان کو امریکی حملوں سے قطعی غافل نہیں ہونا چاہیے اور طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے مقام کا تعین کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ مذاکرات کے مقام کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے۔ امریکا پہلے بھی طالبان سے مذاکرات شروع ہونے سے قبل حملہ کر کے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔