افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ پر حملہ

افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع بھارتی قونصل خانہ پر حملے کی خبر پر بھارت نے دنیا بھر میں واویلا مچا دیا ہے


Editorial May 26, 2014
افغانستان کی سیکیورٹی کے لیے افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، امریکا فوٹو؛فائل

افغانستان کے صوبہ ہرات میں واقع بھارتی قونصل خانہ پر حملے کی خبر پر بھارت نے دنیا بھر میں واویلا مچا دیا ہے اور اقوام متحدہ پر اس حملے کی شدید مذمت کرنے پر زور دیتے ہوئے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرار داد مذمت منظور کر لی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے حملے افغانستان میں امن، جمہوریت اور تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے بلکہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

اس کے ساتھ ہی امریکا نے بھی اپنے طور پر علیحدہ سے اس حملے کی مذمت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا افغانستان کی سیکیورٹی کے لیے افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ اس حملے کے حوالے سے اگرچہ پاکستان کی طرف براہ راست کوئی اشارہ نہیں کیا گیا تاہم بھارت کی حسب روایت کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا جائے حالانکہ اگر ایک طرف ہرات میں یہ دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی تھی تو اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ہمارے صوبے بلوچستان کی ایک ریلوے لائن کو دھماکے سے اُڑایا جا رہا تھا اور اس بات میں بھی اب کوئی بھید نہیں رہا کہ صوبہ بلوچستان میں ہونے والی تخریب کاریوں میں وہی ملک ملوث ہے جس نے ہماری سرحد کے ساتھ ساتھ کتنے ہی قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں جن میں سفارتکاروں کے بھیس میں را کے ایجنٹ تعینات کیے ہوئے ہیں جن کا مقصد صاف سمجھ میں آ سکتا ہے۔

رہا اس معاملے میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا سوال تو کیا افغانستان کے امن و امان کی ذمے داری افغان سیکیورٹی حکام پر عاید نہیں ہوتی؟ رہی پاکستان میں تخریب کاروں کے خلاف کارروائی کی بات تو ہماری فورسز ان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اگلے روز کہا ہے کہ وزیرستان میں حالیہ فضائی حملے اور محدود فوجی کارروائی پہلے سے کیے گئے فیصلوں کا تسلسل ہے جن میں طے کیا گیا تھا کہ سول یا فوجی اہداف کی خلاف ورزی یا دہشتگردی کے خلاف محدود کارروائی کی جائیگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسلام آباد یا کسی دوسرے بڑے شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس بارے میں ایک غیرملکی خبر رساں ادارے کی خبر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے جس میں حال ہی میں وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے سیکیورٹی اجلاس کی کارروائی کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ اس ادارے نے سول، ملٹری تعلقات کے حوالے سے من گھڑت اور غلط معلومات پر مبنی رپورٹ جاری کی ہو۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذکورہ اجلاس انتہائی سازگار اور مثبت ماحول میں ہوا جس میں وسیع پیمانے پر سیکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا گیا اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر قومی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم شمالی وزیرستان میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے خاتمہ کا فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی دوسری جانب سے ایسا کوئی مطالبہ سامنے آیا جو کہ مذکورہ خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے۔ پورے عمل میں کسی بھی طور پر نیکٹا کا کوئی کردار نہیں ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں بیان کیا گیا ہے۔

بہر حال پاکستان عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے' اگر افغانستان میں کوئی واردات ہوتی ہے تو افغان سیکیورٹی حکام کا فرض ہے کہ وہ مجرموں تک پہنچے۔ عالمی برادری کو افغان حکومت کی اس ناکامی کا بھی نوٹس لینا چاہیے' افغانستان کی حکومت اور اس کی سیکیورٹی ایجنسیاں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے دوسروں کی جانب انگلی اٹھاتی ہیں جو غلط طرز عمل ہے' عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔