نواز شریف کا دورہ بھارت سے پاک بھارت کرکٹ بحالی پر پیشرفت کا امکان

سیاسی تعلقات میں بہتری آتی ہے تو کھیل کے معاملات بھی مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے، سنجے پٹیل


Sports Reporter May 26, 2014
سیاسی تعلقات میں بہتری آتی ہے تو کھیل کے معاملات بھی مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے، سنجے پٹیل

وزیر اعظم نواز شریف کے دورۂ بھارت میں کرکٹ تعلقات پر اہم پیشرفت کا امکان ہے، چیئرمین پی سی بی نے چیف پیٹرن کو باہمی مقابلوں کے حوالے سے اب تک کی صورتحال سے آگاہ کردیا۔

بات چیت میں جمود ٹوٹنے کے بعد شائقین روایتی حریفوں کی مکمل سیریز کے سنسنی خیز میچز کا لطف اٹھاسکیں گے۔ پرنسپل ایڈوائزر ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں کرکٹ روابط کی بحالی کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ بی سی سی آئی کے سیکریٹری سنجے پٹیل نے کہا ہے کہ سیاسی تعلقات میں بہتری آتی ہے تو کھیل کے معاملات بھی مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے سیاسی تعلقات میں اتار چڑھائو ہمیشہ دونوں ملکوں کی باہمی کرکٹ کو بھی متاثر کرتا ہے، بی سی سی آئی نے آخری بار 2007 میں ایک مکمل سیریز میں گرین شرٹس کی میزبانی کی تھی،اگلے ہی برس میں ممبئی حملوں کے بعد کشیدہ تعلقات کا نزلہ کرکٹ پر بھی گرا۔

سری لنکن ٹیم پر 2009 میں دہشت گردوں کے حملے نے پاکستان میں انٹرنیشنل مقابلوں پر ایک ایسا سوالیہ نشان لگایا جو آج تک نہیں مٹایا جاسکا، بھارتی ٹیم کو بھی دورہ نہ کرنے کا معقول جواز ہاتھ آگیا،دوسری طرف باہمی سیریز کی نیوٹرل وینیوز پر کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں،پاکستان ٹیم نے جنوری 2013 میں محدود اوورز کی سیریز کیلیے بھارت کا دورہ کیا،اس کے علاوہ پاک بھارت ٹیمیں صرف انٹرنیشنل ایونٹس کے چند مقابلوں میں آمنے سامنے ہوئیں، پی سی بی کا دعویٰ ہے کہ بگ تھری کی حمایت کا فیصلہ کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین 6 سیریز کیلیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے، تاہم بی سی سی آئی کی طرف سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

وزیراعظم اور پی سی بی کے چیف پیٹرن محمد نواز شریف پیر کو بھارت کے نومنتخب ہم منصب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلیے 2روزہ دورے پر نئی دہلی جارہے ہیں تو دونوں ملکوں میں کروڑوں دلوں کی دھڑکن سمجھی جانے والی کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے بھی اہم پیشرفت کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں پاک بھارت کرکٹ تعلقات اور 2015 سے 2022 تک ممکنہ 6 سیریز کی مفاہمت کے حوالے سے مکمل بریفنگ دیتے ہوئے باہمی مقابلوں کی بحالی کیلیے ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے، نجم سیٹھی نے بتایا کہ ملاقات خاصی حوصلہ افزا رہی، وزیراعظم دورئہ بھارت سے واپسی پر آئین کی منظوری دیں گے۔

نواز شریف نے پی سی بی کے انتخابات فوری کرانے کی تجویزسے بھی اتفاق کیا ہے۔ نجم سیٹھی نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ادارے کی بہتری کیلیے گائیڈ لائنز بھی دیں۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا امجد حسین کا کہنا ہے کہ جب بھی دونوں ملکوں کے سربراہوں میں ملاقات ہو، ہر شعبے میں بہتری آتی ہے، وزیراعظم کرکٹ سے گہرا لگائو رکھتے اور خود بھی فرسٹ کلاس کرکٹر رہے ہیں، باہمی مقابلوں کے حوالے سے بات چیت لازمی طور پر ان کی ترجیحات میں شامل ہوگی۔

چیئرمین پی سی بی کے پرنسپل ایڈوائزر ظہیر عباس نے کہا ہے کہ نجم سیٹھی کی وزیراعظم سے ملاقات خوش آئند ہے، وہ دونوں ملکوں میں کرکٹ تعلقات کی بحالی کیلیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں،ان کے بی سی سی آئی حکام کیساتھ اچھے روابط قائم ہوچکے، امید ہے کہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔ دوسری طرف بھارتی بورڈ کے سیکریٹری سنجے پٹیل نے کہا ہے کہ روایتی حریفوں کے مابین باہمی مقابلوں کے مواقع سیاسی تعلقات اور حکومتی ہدایات سے مشروط ہوتے ہیں، اگر ان میں بہتری آتی ہے تو کرکٹ کے معاملات میں بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی حالیہ سیاسی عمل کے نتیجے میںسامنے آنے والی صورتحال کے بعد حکومت کی پالیسی کے تحت ہی کوئی حتمی فیصلہ کریگا۔